خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 418 of 845

خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 418

خطبات طاہر جلد ۹ 418 خطبہ جمعہ ۲۰ جولائی ۱۹۹۰ء سے کم درجہ پر رکھتا ہے۔ انجن آپ دیکھیں ذرا سا سٹارٹ کر کے گرم تو ضرور ہو گا لیکن چونکہ انسانی Lubrication ہورہی ہوتی ہے اس لئے وہ گرمی خطرہ پیدا نہیں کرتی ۔ Lubrication نظام میں اخلاق سے ملتی جلتی ہے۔ جتنے اعلیٰ درجے کے اخلاق کارکنان کے اُتنا ہی زیادہ نظام Lubrication کے ساتھ چلتا ہے اور اگر کسی پرزے کا جھکاؤ ہو کر ٹکر بھی دوسری طرف لگ جائے تو وہ Lubrication ہے جو اُس کو بچالیتی ہے اور بعض دفعہ پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ جماعت احمد احمدیہ کی روایات میں اس پہلو سے اخلاق اخلاق کو بہت بڑا مقام حاصل رہا ہے اور ساری دنیا جو حیرت سے دیکھتی ہے کہ جماعت کا اتنا بڑا نظام کیسے چل رہا ہے اُس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ خدا کے فضل سے جماعت کے کارکنان اعلیٰ اخلاق کے حامل ہوتے ہیں اور جہاں کہیں گرمی پیدا ہونے کے خطرات ہوتے ہیں وہاں اگر ایک سے غلطی ہوئی ہے تو دوسرا اپنے حسن خلق کے نتیجے میں اُس معاملے کو سنبھال لیتا ہے۔ بعض دفعہ ایک مہمان تیز مزاج آجاتا ہے، ہے، بعض بعد دفعہ ایک میز میزبان بان تنقید تا برداشت نہیں کر سکتا اور اگر بد قسمتی سے دونوں اکٹھے ہو جائیں تو پھر ہنگامہ برپا ہو جاتا ہے۔ باوجوداس کے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ میں بہت شاذ ایسے واقعات ہوئے ہیں لیکن ہم نے دیکھے ہیں ایک دفعہ ربوہ میں ایک چاول کھانے والے مہمان تھے اُن کے لئے چاول نہیں تھے اُنہوں نے کہا ہم ابھی پکا دیتے ہیں اُنہوں نے اتنا شور مچایا جو پکانے والے تھے وہ بھی اُسی مزاج کے تھے خوب گرما گرم بحث ہوئی اور یوں لگتا تھا کہ خوفناک لڑائی پھیل جائے گی اس علاقے میں ۔ جب جائے میں نے دیکھا تو شورشن کے لنگر سے باہر آیا وہ دونوں میرا لحاظ کرتے تھے۔ پیار سے اُن کو سمجھایا تو ہنس پڑے بات ہی ختم ہو گئی و ہیں۔ تو ایک ہنسی سے بعض دفعہ بڑے بڑے خراب نتائج جو نکل سکتے ہیں اُن کی روک تھام ہو جاتی ہے۔ اس لئے آپ حسن خلق سے ہی کام لیں اور جہاں مزاح سے فائدہ پہنچ سکے وہاں مزاح سے کام لیں یہ بڑی ضروری چیز ہے۔ مزاح زندگی کا ایک بڑا اہم حصہ ہے۔ ایک تو ہے ایسا مزاح جس کو لوگ کہتے ہیں کہ بھانڈ ہو گیا ہے کوئی شخص ۔ یعنی جس کو عادت ہو دن رات سوائے مزاح کے کام ہی کوئی نہ ہواُس کو لوگ کہتے ہیں بھانڈ بن گیا ہے۔ وہ مزاح میں نہیں کہہ رہا لیکن وہ مزاح جو زندگی کی خوشکیوں میں تری پیدا کرنے والا ہے جو روزمرہ کی یکسانیت کو دور کرتا ہے اور زندگی میں ایک فراخی اور روانی پیدا کرتا ہے وہ مزاح بہت ضروری ہے اور بعض دفعہ