خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 100
خطبات طاہر جلد ۹ 100 خطبه جمعه ۱۶ فروری ۱۹۹۰ء الجنة اس پیغام کوسن کر حضرت ابو ہریرہ با ہر گلیوں میں نکل کھڑے ہوئے اور بلند آواز سے یہ منادی کرنی شروع کر دی کہ اے لوگو! مبارک ہو جنت کی کنجی مل گئی۔ من قال لا اله الا الله دخل الجنة جس نے بھی لا اله الا الله کہہ دیا وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب یہ سنا تو آپ کو فکر پیدا ہوئی کہ لوگ اس کلمہ کے سچے مفہوم کو سمجھے بغیر اس خوشخبری کی گہرائی کو پائے بغیر سطحی طور پر کلمے سے چمٹ کر صلى الله سمجھیں گے کہ وہ جنت میں داخل ہو رہے ہیں تو وہ اسی طرح ان کو پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے حضرت رسول اکرم ہے رض معلقة کی خدمت میں لے گئے اور کہا: یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا تھا کہ اس طرح کہو۔ آپ نے فرمایا: ہاں میں نے کہا تھا۔ تو اس پر انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! لوگ اس سے غلط نہی میں مبتلا ہو جائیں گے تو آپ نے حضرت ابو ہریرہ کو منع فرما دیا کہ اس کا اس طرح اعلان نہ کرو جس طرح اب تم کرتے پھر رہے تھے (مسلم کتاب الایمان حدیث نمبر: ۴۶) لیکن آنحضرت ﷺ کی بات درست تھی۔ اس میں تو کوئی شک نہیں ۔ وقتی علوس طور پر ایک مصلحت کی خاطر اس کا اعلان تو منع فرمادیا مگر قیامت تک کے لئے وہ اعلان دنیا میں گھومتا پھر رہا ہے۔ ابو ہریرہ کی بات تو لوگ بھول جائیں گے، اس کی کوئی حیثیت نہیں رہی لیکن حضرت محمد مصطفی اللہ کی بات تو بھلائی نہیں جا سکتی یقینا یہ ایک دائمی سچائی ہے اور اس میں گہری حکمت کا راز ہے ۔ مــن قـال لا الــه الا الله دخل الجنة_اس ۔ اس کا ایک پہلو یعنی جھوٹے خداؤں کی پرستش کا جو پہلو ہے۔ اس کے متعلق میں ایک دفعہ کچھ حصہ مضمون کا بیان کر چکا ہوں ۔ اب میں ایک اور پہلو سے متعلق جماعت کے سامنے اس مضمون کو رکھنا چاہتا ہوں، قرآن کریم کی ایک آیت سے جس کی نشاندہی ہوتی ہے اور وہ آیت در حقیقت اسی کلمہ کی ایک تفسیر ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنُ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا (البقرہ:۲۵۷) جس طرح کلمے میں ایک انکار اور ایک اثبات شامل ہے۔ انکار جمع کی صورت میں ہے اور اثبات وحدت کی شکل میں تمام خداؤں کا انکار ہر قسم کے خداؤں کا انکار ہر طرز کے، ہر امکانی خدا کا انکار مگر ایک اللہ کا اقرار تو توحید پہلے سب کی نفی کر دیتی ہے اور جب کچھ باقی نہیں رہتا تو پھر خدا کے وجود کا اثبات آپ کے سامنے اس طرح پیش فرماتی ہے کہ اور کچھ بھی نہیں صرف ایک خدا ہی رہ گیا ہے۔ وہی مضمون ایک اور پہلو کے لحاظ سے اس آیت میں بیان ہوا ہے ۔ فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنُ بِاللَّهِ جو طاغوت کا انکار کر دے اور اللہ پر ایمان لے آئے فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى اس