خطبات طاہر (جلد 9۔ 1990ء) — Page 99
خطبات طاہر جلد ۹ 99 خطبه جمعه ۱۶ فروری ۱۹۹۰ء لا اله الا اللہ پر قائم ہو کر توحید کے علمبردار بن جائیں۔ پاکستان حضرت مسیح موعود کے انکار کی وجہ سے عذاب میں مبتلا ہے۔ ( خطبه جمعه فرموده ۱۶ رفروری ۱۹۹۰ء بمقام بیتا بيت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ کلمہ توحید یعنی لا اله الا اللہ ایک ایسا کلمہ ہے جو تمام دنیا کے مذاہب کا خلاصہ اور ان کی جان ہے۔ مذہب خواہ قدیم ترین ہو یا اسلام جو آخری صورت میں ظاہر ہوا ان سب میں اگر کوئی قدر مشترک ہے تو وہ یہی ہے۔ لا الہ الا اللہ اور اسی لئے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو افضل الذکر بھی فرمایا۔ (ترمذی کتاب الدعوات حدیث نمبر : ۳۳۰۵) یعنی جتنے بھی ذکر ممکن ہیں خدا تعالیٰ کی یاد کے جتنے بھی طریقے سوچے جاسکتے ہیں ان میں سب سے زیادہ بہتر ، سب سے شاندار ، سب سے زیادہ خوبصورت یہ کلمہ لا الہ الا اللہ ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے قرآن کریم کی متعدد آیات اس امر پر روشنی ڈالتی ہیں کہ یہی کلمہ ہے جو ہمیشہ سے ہر مذہب کی جان رہا ہے۔اس کے معانی پر جتنا بھی غور کیا جائے ، مزید گہرائیاں دکھائی دینے لگتی ہیں اور عملاً میں نے غور کر کے دیکھا ہے کہ اس میں تمام مذاہب کی تمام سچائیاں پائی جاتی ہیں۔ اس مضمون کو آپ کریدتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جائیں تو در حقیقت کلمہ توحید کا مضمون پھیلتا چلا جاتا ہے، وسیع ہوتا چلا جاتا ہے، گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہر مذہب کی ہر تعلیم کا خلاصہ یہ کلمہ بن جاتا ہے۔ انہیں معنوں میں ایک مرتبہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے حضرت ابو ہریرہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ من من قال قال لا اله لا اله الا الا الله الله دخل صلى الله علوسه ۔