خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 616
خطبات طاہر جلدے 616 خطبه جمعه ۱۵ ستمبر ۱۹۸۹ء اے میرے دوست میں نے تو جب بھی تجھے دیکھا ہے ایک نیا جلوہ تیرے اندر دیکھا ہے۔ تیرا شناسا ہونے کا جتنی میں کوشش کرتا ہوں میں تیرا شناسا نہیں ہو سکتا کیونکہ جب میں سمجھتا ہوں کے میں تجھے پہچان گیا ہوں تو تیرا ایک اور حسن مجھ پر ظاہر ہوتا ہے تو ایک اور جلوہ نمائی کرتا ہے۔ کسی انسان کے متعلق تو یہ شعر نہیں کہا جا سکتا سوائے ان خدا رسیدہ انسانوں کے متعلق جو خدا کے جلوؤں میں اس قدر آگے بڑھ چکے ہوتے ہیں کہ عام انسان ان کی جتنی بھی پیروی کرے ان کے جلوؤں کا احاطہ نہیں کر سکتا۔ اس لئے خدا نہ ہوتے ہوئے بھی عام انسانوں سے وہ اتنا فرق رکھتے ہیں کہ ہر انسان اگر ان کا شناسا ہونے کی کوشش کرے تو اپنی عمر گزار دے گا ان کی کنہ کو، ان کے حسن کی وسعتوں کو پا نہیں سکتا۔ صلى الله پس اگر دنیا میں یہ شعر کسی پر صادق آسکتا ہے تو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذات پر آسکتا ہے کیونکہ آپ کی ذات پر ہر لمحہ خدا نئی شان سے ظاہر ہوتا رہا اور جس شان سے بھی خدا آپ پر ظاہر ہوا آپ نے ہر اس شان کو اپنالیا ، ہر اس شان سے چمٹ کر بیٹھ گئے اس کو اپنے وجود کا حصہ بنالیا۔ پس اگر کوئی شخص حضرت محمد مصطفی اللہ کو دیکھتے ہوئے مسلسل یہ کہتا چلا جائے کہ: ه جب بھی دیکھا ہے تجھے عالم نو دیکھا ہے مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا صلى الله اس شعر کا ایک ایک لفظ حقیقت کے طور پر آنحضرت ﷺ پر صادق آتا چلا جائے گا اور ایک بھی زندگی کے سفر صلى کا قدم ایسا نہیں ہو سکتا جس میں آپ آنحضرت ﷺ کو دیکھیں اور آپ میں جلوہ کو نہ دیکھیں۔ چنانچہ قرآن علوس کریم نے اس بات کی گواہی دی ہے۔ قرآن کریم فرماتا ہے وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَّكَ مِنَ الْأُولَى صلى الله : ۵) محمد علی سلام الضحى : لی سے تیر ہر آنے والالحہ ہرگزرے ہوئے لمے سے بہتر ہوتا چلا جارہا ہے۔ اس کی کیا وجہ تھی ؟ اس کی یہی وجہ ہے کہ آپ نے اپنے خدا کو کسی جامد حالت میں نہیں پایا بلکہ پھیلتے ہوئے اصلى الله عليها۔ اور آگے بڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور جوں جوں حضرت اقدس محمدمصطفی ﷺ اپنے محبوب آسمانی آقا سے شنائی حاصل کرے چلے گئے جوں جوں آپ عرفان میں بڑھتے چلے گئے وہ خدا بھی آگے بڑھتا رہا اور مزید وسعت اختیار کرتا رہا اس لئے حضور اکرم ﷺ کے ہر لمحہ ایک نیا ظاہر ہونے والا خدا تھا جس کے جلوے سے آپ مد ہوش ہوتے رہے۔