خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 615 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 615

خطبات طاہر جلدے 615 خطبه جمعه ۱۵ ستمبر ۱۹۸۹ء ہیں کہ ہم نے اس کو پالیا ہے ہم نے اس کو پکڑ لیا ہے ۔ کیونکہ خدا کا تصور عرفان کے ساتھ ساتھ پھیلتا ہے اور جتنا آپ زیادہ خدا والے بنیں گے اتنا ہی خدا اور زیادہ پھیلتا ہوا دکھائی دے گا اور زیادہ وسیع تر دکھائی دے گا۔ پس جتنا خدا آپ کے لئے وسعت اختیار کرتا چلا جائے گا اتنا ہی آپ کے جذبہ محبت میں اور زیادہ جوش پیدا ہوتا چلا جائے گا۔ یہ اس لئے ضروری ہے اس بات کو سمجھنا کہ اگر آپ خدا کو جامد سمجھتے ہوئے خدا کی طرف بڑھیں تو آپ کی محبت ایک مقام پر جا کر رک جائے گی ۔ دنیا کے تعلقات میں بھی دیکھا گیا ہے بعض لوگ کسی انسان کے حسن پر فریفتہ ہو جاتے ہیں جب تک اس کو نہیں پاتے ان کی محبت میں آگ لگی رہتی ہے جب اس کو پالیتے ہیں تو کچھ دنوں کے بعد محبت بجھ جاتی ہے ۔ انسان سمجھتا ہے کہ بس یہی کچھ تھا جو میں نے پا لیا اور تھوڑی دیر کے بعد جو حسن قرب کی لذت بخشتا ہے ایسا بھی ہوتا ہے بعض دفعہ کہ وہ قرب کی لذت ا لذت بخشنے کی بجائے قرب کے نتیجے میں بے چینی پیدا کرنا شروع کر دے ۔ انسان بور ہونے لگ جاتا ہے۔ ایک ہی جیسی چیز ہر روز آپ کو ملے تو کیسے آپ کی زندگی مزے سے کٹ سکتی ہے۔ بعض لوگوں کو مرغا پسند ہوتا ہے ، بعضوں کو دال پسند ہوتی ہے، بعضوں کو آلو گوشت پسند ہے، بعضوں کو کریلے گوشت پسند ہے۔ ہر قسم کے کھانے ہر قسم کی پسند لیکن ایک ہی کھانا جو آپ کی پسند کا ہوا اگر آپ روزانہ کھانا شروع کر دیں تو کچھ دنوں کے بعد وہ منہ کو آنے لگے گا۔ پس یا د رکھیں کہ ایسا کوئی خطرہ بندے اور خدا کے تعلق کے درمیان واقع نہیں ہو سکتا کیونکہ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ کا مضمون ہمیں یہ سمجھا رہا ہے اور ہمیں یہ یقین دلا رہا ہے کہ جتنا چا ہو خدا کی طرف بھاگو اور جتنا چاہو اسے اپناؤ ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں کہ ایک بھی دن ایسا نہیں آئے گا کہ جب تم خدا کے حسن سے بور ہونے شروع ہو جاؤ اور یہ سمجھو کہ بس ہم نے دیکھ لیا جو دیکھنا تھا۔ ہر روز وہ نئے جلوے دکھائے گا ۔ اس مضمون پر ایک دفعہ پہلے بھی میں نے ایک شعر آپ کو سنایا تھا غالبا احمد ندیم قاسمی کا ہے لیکن جس کا بھی ہے وہ بہت عمدہ شعر ہے۔ وہ کہتا ہے کہ: جب بھی دیکھا ہے تجھے عالم نو دیکھا ہے مرحلہ طے نہ ہوا تیری شناسائی کا