خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 588
خطبات طاہر جلد ۸ 588 خطبه جمعه یکم ستمبر ۱۹۸۹ء دے رہے ہو۔ دراصل یہ اپنے تمدن کے غلام ہو چکے ہیں یہ دنیا کی لذتوں کے ایسے غلام ہو چکے ہیں کہ ان سے چھٹکارا نہیں پا سکتے اور ان لذتوں کو جاری رکھنے کے لئے یہ ہر قسم کی قربانی دوسروں سے لیں گے اور خود قربانی دینے کے اہل نہیں ۔ یعنی اپنے بچوں تک پر ظلم کر جائیں گے اپنی لذتوں کے حصول کے لئے مگر قربانی دینے کے اہل نہیں بغیر لذتوں کے رہ نہیں سکتے ۔ کہتے ہیں ہماری زندگی بور ہو گئی ہے۔ پس قرآن کریم نے جو نقشہ کھینچا ہے۔ یہ لفظاً لفظاً درست ہے اور بہت ہی گہرا نقشہ ہے۔ اور امر واقعہ یہ ہے کہ مختلف زمانوں میں یہی چیز آپ کو ظاہر ہوتی اور پھر ہلاک ہوتی دکھائی دیتی ہے اور یہ قو میں جو تباہ ہو جاتی ہیں اُن کے فتنوں سے پھر نئی قو میں ابھرتی ہیں پھر وہ نیک رہتی ہیں، پھر وہ خدا کی طرف آ جاتی ہیں، پھر بد قسمتی سے ان باتوں کو بھول کر آہستہ آہستہ ترقی کرتے کرتے وہ بھی دنیا کی لذتوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔ پس ان باتوں کو سمجھتے ہوئے میں آپ کو خصوصیت سے جو یہاں کی ایک بہت چھوٹی سی جماعت کیسٹنٹائن کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے معاشرے کو صرف اعتقادی لحاظ سے اسلام کی برتری سے آگاہ نہ کریں۔ بلکہ ان کو تنبیہہ کریں ، انذار سے کام لیں اور ان کو بتائیں کہ تم غلط راستوں پر چل پڑے ہو۔ منطقی نتائج کے طور پر ثابت کیا جا سکتا ہے کہ تمہارا انجام ہلاکت ہے۔ اس لئے تمہیں لازماً واپس لوٹنا ہو گا ۔ صرف اسلامی معاشرہ اور تمدن ہے جو دل کا سچا امن تمہیں عطا کر سکتا ہے اُس کے سوالذتیں تو ہیں لیکن دل کا امن تمہیں نصیب نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک ایسا مضمون ہے جس پر اگر آپ غور کریں تو ان لوگوں پر خود ثابت کر سکتے ہیں کہ آپ کی ان لذتوں کے باوجود دل کا امن زیادہ ہونے کی بجائے کم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ بے چینی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ تلاش اور جستجو ایسی چیزوں کی کرتے ہیں جس کو یہ سمجھتے بھی نہیں کہ وہ کیا چیز ہے، بھوک زیادہ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ خلا کا احساس پیدا ہو رہا ہے۔ پس احمدیوں کو ان قوموں کو سمجھا کر اسلام کی طرف بلانا چاہئے ان کو بتانا چاہئے کہ تمہارا تمدن تمہارا معاشرہ تمہاری تہذیب یہ زندہ رہنے کے لائق نہیں رہے اور اگر تم اسی طرح بڑھتے چلے گئے تو قرآن کریم کی یہ پیشگوئی لازما پوری ہوگی کہ ہم نے جو کچھ بھی زمینیں زمین پر بنائی ہیں ایک دن