خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 415 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 415

خطبات طاہر جلد ۸ 415 خطبه جمعه ۱۶ جون ۱۹۸۹ء الصلوۃ والسلام نے جو عارفانہ نظر سے اسلام کے اولین دور کے غلبے کا تجزیہ فرمایا وہاں سب سے پہلے دعا کو رکھا اور پھر اخلاق کو اور بار بار اس بات پر زور دیا کہ اگر تم اخلاق فاضلہ سے کام نہیں لو گے تو تم دنیا میں کبھی بھی پنپ نہیں سکتے کجا یہ کہ دوسروں پر غالب آ جاؤ۔ پس پہلی بات اخلاق پر زور دینے کی ہے جو میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ وہ لطیف پانی ہے۔ دوبارہ میں اُس پہلی اصطلاح کی طرف واپس لے جاتے ہوئے آپ کو بتاتا ہوں ۔ یہ وہ لطیف پانی ہے جس نے لازماً کثیف پانی میں سرایت کرتا ہے لیکن اگر اس لطیف پانی میں آپ کی بد خلقیاں شامل ہو جائیں اور بد کرداریاں شامل ہو جائیں اور بد معاملگیاں شامل ہو جائیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ کا اندرونی پانی اتنا گاڑھا ہو جائے کہ بجائے اس کے کہ غیروں غیروں میں سرایت کرے اُن کی بدیوں والا پانی آپ کے اندر سرایت کرنا شروع ہو جائے اور وہی سلوک ہو آپ کے ساتھ جیسے کلر شور میں ایک پودا لگایا جاتا ہے اور بجائے اس کے کہ وہ باہر سے پانی کھینچے وہ اپنا پانی بھی کلر شور کے سیال کو دے دیتا ہے اور خود زندگی سے محروم ہو جایا کرتا ہے۔ یہ وہ سب سے بڑا خطرہ ہے جو میں مغربی دنیا کے سفر میں ہمیشہ محسوس کرتا ہوں ۔ پس آپ کا ایک پہلو سے یہ فرض ہے کہ اپنے اخلاق کی حفاظت کریں اور لطیف وجود کے طور پر ان قوموں کے سامنے ظاہر ہوں جن کی مہک ، جن کی خوشبو ، جن کی پاکیزگی سرایت کئے بغیر رہ نہ سکے اور اس کے ساتھ ساتھ ہی آپ کے نظریات بھی ان لوگوں میں نفوذ پانے لگیں اور سرایت کرنے لگیں اور یہی وہ طریق ہے جس کے ذریعے دراصل روحانی قو میں غالب آیا کرتی ہیں۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان سے جو کچھ آپ نے لینا ہے کیونکہ آپ نے اپنی بقا کے لئے لازماً ان سے کچھ لینا ہے۔ سب سے پہلے تو Selective ہوں اور اچھی چیزیں لیں ۔ جس طرح جب ایک آدمی کو بھوک لگتی ہے تو غیروں کا محتاج ہوتا ہے اور ہر وہ چیز جس سے وہ توانائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ اس کے جسم کے لئے ایک غیر ہے۔ میٹھا ہو یا نمک ہو یا سبزی ہو یا گوشت ہو یا مچھلی ہو، انڈا ہو جو کچھ بھی ہو وہ جسم کے لئے غیر ہے یہ یاد رکھیئے اور اس کا غیر ہونا اس بات سے ثابت ہے کہ اگر وہ براہ راست جسم میں داخل ہو تو جسم کی ہلاکت کا موجب بن جائے گا۔ پس اُس غیر کو اپنا بنا کر اپنے اندر داخل کریں۔ اُن کے اندر سے وہ چیزیں لیں جو نسبتا اچھی ہوں پہلے اُن چیزوں کو چنیں پھر اُن کو مزید اسلامی بنائیں۔ اپنے