خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 414 of 898

خطبات طاہر (جلد 8۔ 1989ء) — Page 414

خطبات طاہر جلد ۸ 414 خطبه جمعه ۱۶ جون ۱۹۸۹ء صلى علي اندر بھی سرایت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ جو آپ کے قریب آئے وہ مجبور ہو جائے آپ کا اثر قبول کرنے میں ۔ ان معنوں میں آپ کا سمندر میٹھے پانی کا سمندر بنا رہے گا اور ان معنوں میں آپ ان قوموں میں نفوذ کرنے کی ابتدائی شرط پوری کرنے والے ہوں گے ورنہ اگر آپ صرف نظریات کو یہاں پہنچانے کا انے کی کوشش کریں اور لطیف اور پاکیزہ اخلاق کا سہارا نہ لیں تو یہ سوسائٹی ان نظریات کورڈ کر دے گی کیونکہ ان کے نزدیک وہ کثیف ہیں۔ دنیا میں ہمیشہ نظریات کو قبول کرنا مشکل کام ہوا کرتا ہے۔ ان کو ایسے لطیف مائع صورت میں ڈھالنا پڑتا ہے جو دوسرے کے اندر جذب کرنے کی استطاعت اور صلاحیت رکھتا ہو۔ پس جہاں تک میں نے جائزہ لیا ہے کوئی دنیا کا سچا مذہب اخلاق کے بغیر غیر قوموں میں سرایت نہیں کر سکتا۔ اعلیٰ اخلاق ہی تھے جو حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی عظیم الشان کامیابی کا موجب بنے۔ قرآن کریم نے بارہا ان عظیم الشان اخلاق کا ذکر کا ذکر کیا ہے اور اسلام کی غیر اسلامی طاقتوں سے جو ٹکر تھی اس میں سب سے بڑا کردار جس چیز نے ادا کیا وہ حضرت محمد مصطفیٰ کے اعلیٰ اور لطیف اخلاق تھے۔ وہ اخلاق چونکہ قرآن کریم کی تعلیم کے ساتھ ایسا انجذاب کر چکے تھے۔ اس طرح مل جل گئے تھے کہ یہ نا ممکن تھا وہ اخلاق تو سرایت کریں اور قرآنی تعلیم سرائیت نہ کرے۔ اس لئے جہاں جہاں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے اخلاق داخل ہوئے ہیں وہاں لازمی طور پر طبعی قانون کے طور پر قرآن کی تعلیم بھی داخل ہوئی ۔ اس راز کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خوب اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ جب آپ سے پوچھا گیا کہ حضرت محمد مصطفیٰ کے اخلاق کے متعلق ہمیں کچھ بتائیں تو آپ نے فرمایا کان خلقه القرآن آپ ر آن آپ کے اخلاق قرآن کریم تھے ۔ ( مسند احمد بن حنبل جلد ۸ حدیث نمبر : ۲۵۱۰۸) یعنی آپ ایک ایسا وجود تھے جہاں نظریات کا روزمرہ کی زندگی کے ساتھ کوئی تفاوت نہیں رہتا کوئی فاصلے نہیں رہتے۔ جہاں نظریات اور تعلیمات انسانی وجود کا ایک ایسا حصہ بن جاتی ہیں کہ ان دونوں کو جدا جدا نہیں کیا جا سکتا اور انسانی وجود کا اظہار اس کے اخلاق سے ہوا کرتا ہے۔ پس قرآن کریم آپ کا اخلاق بن گئے اور اخلاق میں ہی یہ صفت ہوتی ہے یہ ایک لازمی صفت اس کے اندر خدا نے رکھی ہے کہ وہ اگر لطیف ہوں تو ضرور صلى الله عروسة ۔ صلى الله سرائیت کرتے ہیں ۔ پس حضرت محمد مصطفی ﷺ نے دعاؤں کے بعد اگر کسی قوت سے سے کام کام لیا ہے جس نے مخالفانہ طاقتوں پر کامل غلبہ پالیا تو وہ اخلاق ہی کی قوت تھی ۔ اسی لئے حضرت مسیح موعود علیہ