خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 456
خطبات طاہر جلدے 456 خطبه جمعه ۲۴ جون ۱۹۸۸ء اس حد تک آپ کا نماز کا سجدہ بنے گا کیونکہ حضرت مسیح موعودہ رت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ یہ سجدہ سایہ ہے اس اندرونی حالت کا ۔ اگر اندرونی حالت پیدا ہی نہیں ہوئی تو سایہ کیسے ، تو سایہ کیسے بن جائے گا۔ تو نماز بنانے کا ایک ایک جس طرح اینٹ رکھ کر معمار ایک عمارت بناتا ہے اور سکھاتا ہے دوسرے کو کہ اس طرح عمارت بنائی جاتی ہے اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہمیں نماز کی عمارت بنانے کے گر سکھا رہے ہیں۔ پس میں جماعت سے یہ توقع رکھتا ہوں کہ وہ ضرور نماز کی طرف ایک باشعور حالت کے یہ ساتھ متوجہ ہو گی ۔ صرف ظاہر کو قائم نہیں کرے گی بلکہ اس کی روح کے ذریعے اس کے قیام اور رکوع اور سجود کو قائم کرنے کی کوشش کرے گی اور اپنے گھروں میں یہ تذکرے کئے جائیں گے۔ اپنے بیوی بچوں عزیزوں سے ان باتوں پر گفتگو کی جائے گی انہیں پیار سے سمجھایا جائے گا اور اپنی نماز کی خصوصیت سے نگرانی کی جائے گی۔ آپ نگرانی جب تک شروع نہیں کرتے اس وقت تک آپ کو پتا ہی نہیں لگتا کہ یہ کیا باتیں ہیں ۔ جب اپنے ذاتی تجربوں سے گزریں گے اپنی نماز کی خالی حالت کو دیکھیں گے طبیعت میں گھبراہٹ پیدا ہوگی ، خوف پیدا ہو گا اور شعور بیدار ہوگا ایک نیا شعور وجود میں آئے گا۔ تب آپ کو پتا چلے گا کہ یہ کیا باتیں تھیں جو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں آپ کے سامنے رکھی ہیں۔ جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا آخر پر میں یہ یاد دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ اس عظیم الشان تاریخی مباہلے کا جس کا چیلنج تمام احمدیوں کی نمائندگی میں میں نے تمام دنیا کے مکذبین اور مکفرین کو دیا ہے نماز سے بھی ہے اور بہت گہرا تعلق نماز سے ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ۳ رفروری ۱۹۰۶ء کو ایک ایسی رات الہام ہوا جبکہ بادل نہایت زور سے گرج رہے تھے اور خدا تعالیٰ کی ایک رنگ میں بیرونی طور پر قہری تجلی کا نظارہ تھا۔ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام ہوا اٹھو نمازیں پڑھیں اور قیامت کا نمونہ دیکھیں“۔ ( تذکرہ صفحہ: ۵۰۷) پس اگر آپ دنیا کو بیدار کرنے لئے اور احمدیت کی طرف متوجہ کرنے لئے خدا تعالیٰ سے ایک ایسا عظیم الشان نشان چاہتے ہیں کہ دنیا قیامت کا نمونہ دیکھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سچائی روز روشن کی طرح ظاہر ہو جائے اور سارے اندھیرے جو تکذیب کے پھینکے جا رہے