خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 455 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 455

خطبات طاہر جلدے 455 خطبه جمعه ۲۴ جون ۱۹۸۸ء بھی کرتی ہے اور اس کی ظل وہ نماز ہے جو اسلام نے سکھائی ہے اور روح کا کھڑا ہونا یہ ہے کہ وہ خدا کے لئے ہر ایک ہیبت کی برداشت اور حکم ماننے کے بارے میں مستعدی ظاہر کرتی ہے۔“ اب یہ غور کریں اس بات پر کہ اگر قیام کو زندہ کرنا ہے نماز کے قیام کو تو اس کے لئے کونسی کوشش کرنی پڑے گی۔ اس کے لئے نماز سے باہر کی حالت کو نماز کے مطابق بناتے رہنے کی کوشش کرنا ہوگی اور جہاں تک قیام کا تعلق ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا پیغام یہ ہے کہ باہر کے وقت نماز کے علاوہ بھی ہر مصیبت کی برداشت اور خدا کا حکم ماننے سے متعلق اپنے آپ کو تیار کر کے رکھا کرو۔ ہر وقت یہ فیصلہ کرو دل میں کہ خدا کی طرف سے جو بھی ابتلا آئے جو بھی مشکل پڑے میں رضا کے ساتھ اس پر قائم رہوں گا۔ اس کا نام قیام ہے روح کا۔ اور اس کا رکوع یعنی جھکنا یہ ہے کہ وہ تمام محبتوں اور تعلقوں کو چھوڑ کر خدا کی طرف جھک آتی ہے اور خدا کیلئے ہو جاتی ہے“ اور یہ چیز روزمرہ کی زندگی میں پہلے ظاہر ہوتی ہے پھر نماز میں آتی ہے۔ یہ ہے وہ مضمون جس کو غور سے سمجھنا ضروری ہے۔ اگر باہر کی دنیا میں آپ کے تعلقات خدا کے سوا ہر غیر سے رہیں تو نماز میں داخل ہونے کے بعد یہ کیفیت بدل نہیں سکتی پھر ویسی ہی آپ کی نماز بنے گی ۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ وہ نماز تمہاری بے رکوع رہے گی اس میں کبھی رکوع نہیں آئے گا خواہ جتنی دفعہ مرضی تم جھکو جس میں دنیا کی محبتوں اور تعلقوں سے تم جدا نہیں ہو سکے۔ پھر وہ جھکنا کیا ہے خدا کے حضور وہ ایک ظاہری طور پر کمر کا خم تو کہلا سکتا ہے مگر جس کو خدا رکوع قرار دیتا ہے وہ رکوع نہیں بنتا۔ اور اس کا سجدہ یہ ہے کہ وہ خدا کے آستانہ پر گر کر اپنے خیال بکلی کھو دیتی ہے۔ لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۲۳ ۲۲۴) یعنی کامل انکسار خدا کے حضور اور کامل خشوع و خضوع اور اپنے نفس کو خدا کے حضور میں بالکل مٹادینا اس کا نام سجدہ ہے۔ پس جس حد تک آپ اپنی روزمرہ کی زندگی میں اپنے نفوس کو مٹاتے ہیں اور اپنے اندر عاجزی اور انکسار پیدا کرتے ہیں اور خدا کے سامنے اپنے آپ کو لاشئی محض دیکھتے ہیں۔