خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 423
خطبات طاہر جلدے 423 خطبه جمعه ۱۰ رجون ۱۹۸۸ء رسول اللہ کا کامل غلام تھا اور کسی نوع کی فضیلت اس کو محمد رسول اللہ ﷺ پر حاصل نہیں تھی ۔ اس نے ایک ایسی جماعت پیدا کی جو اسلام کی دشمن نہیں بلکہ دوست ہے۔ دین محمد کے غدار نہیں بلکہ وفادار اور معین و مددگار ہے۔ وہ نہ نصاری کی ایجنٹ ہے نہ یہود کی نہ ہنود کی بلکہ اسلام کی سچی نمائندہ اور حق و صداقت کی ایجنٹ ہے۔ وہ وطن دشمن اور امن و مان کو تباہ کرنے والی اور شر اور فساد کرنے والی جماعت نہیں بلکہ حب وطن اس کے ایمان میں داخل ہے اور سلامتی اور امن کی علمبردار ہے وہ بنی نوع انسان کی سچی ہمدرد اور بہی خواہ ہے اور ہر قسم کے جھوٹ اور افتراء اور ظلم سے بیزار ہے۔ اے عالم الغیب والشھادۃ اے قادر رو تو انا اے قہارا اور جبار خدا اور اے مفتری اور کاذب پر غضب نازل کرنے والے ہم میں سے دوسرا فریق (یعنی احمدیوں کے مخالفوں اور معاندین کا فریق) فریق اول کے تمام مذکورہ دعاوی کی تکذیب کرتا ہے اور یہ اعلان کرتا ہے کہ فریق اول کذاب اور مفتری ہی نہیں بلکہ سرا سر فتنہ و فساد کی راہ سے تیری مخلوق کو دھوکا دینے والا ہے اور ان کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے والا ہے۔ یہ دوسرا فریق اس جماعت کو جو احمدی مسلم کہلانے پر مصر ہے نہ احمدی تسلیم کرنے پر تیار ہے نہ مسلم بلکہ قادیانی اور مرزائی ٹولہ قرار دیتا ہے۔ ہم یعنی فریق ثانی اس وضاحت کے بعد پوری ذمہ داری کے ساتھ اس معاملہ کے حسن و فتح کو سمجھتے ہوئے اور فائدہ اور شر سے اچھی طرح آگاہ ہو کے اس جماعت کے موجودہ سربراہ مرزا طاہر احمد کے اس مباہلہ کے چیلنج کو بقائمی ہوش و حواس پوری جرات کے ساتھ قبول کرتے ہیں جو اس نے بروز جمعہ 10 تاریخ جون 1988 ء کو مرزاغلام احمد قادیانی انی کے تمام مکذبین اور معاندین اور اس کی جماعت کے تمام مخالفین کو کھلے کھلے غیر مہم لفظوں میں دیا ہے۔ ہم تجھے حاضر و ناظر جانتے ہوئے اور تیری قدرت اور تیری تجلیات عظمت اور جلال کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ اعلان کرتے ہیں کہ قادیانی جماعت جو اپنے آپ کو احمدی مسلم کہلانے پر اصرار کرتی ہے کہ وہ تمام دعاوی جھوٹے اور کذب اور سراسر افتراء پر مبنی ہیں جن کا ذکر فریق اول کے دعاوی میں گزرا ہے۔ ہم اس جماعت کو خدا اور رسول اور قوم اور وطن اور انسانیت کا دشمن یقین کرتے ہیں اور پوری بصیرت کے ساتھ اپنے تمام دعاوی میں جن کا ذکر گزرا ہے جماعت احمد یہ کو کذاب اور مفتری یقین کرتے ہیں اس جماعت کی مخالفت میں اور اس کی اندرونی حقیقت کی نقاب کشائی کرتے ہوئے جو کچھ گزشتہ برسوں میں ہم نے لکھا یا بیان کیا ( جس کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں ) ہم از