خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 251 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 251

خطبات طاہر جلدے 251 خطبہ جمعہ ۱۵ اپریل ۱۹۸۸ء رؤیت ہی کی قسمیں ہیں ۔ چنانچہ ان آلات کے استعمال کو اور جدید سائنسی دریافتوں کو آپ نے رؤیت سے خارج نہیں فرمایا بلکہ زائچوں کو اور تخمینوں اور اندازوں کو غلط قرار دیا ہے ۔ آپ نے فرمایا اندازے کے صرف اسی وقت اجازت ہو گی جبکہ دوسرے قطعی ذرائع میسر نہ ہوں ۔ ( سرمہ چشم آریہ روحانی خزائن جلد ۲ صفحه : ۱۹۲ ۱۹۳) چنانچہ آج کل بھی یہ بحث اٹھائی جا رہی ہے کہ رؤیت کیا ہے۔ ایک طرف تو علماء اس حد تک رؤیت کی پیروی کرتے ہیں کہ اس کے اصل جو مضمون ہے رؤیت کا اس کو بالکل باطل کر دیتے ہیں۔ یعنی جغرافیہ دانوں کے سائنسی تخمینوں کو رد کر دیتے ہیں لیکن رؤیت کی خاطر ہوائی جہازوں پر چڑھ کر اتنی بلندی تک پہنچ جاتے ہیں کہ افق ہی بدل جاتا ہے بالکل ۔ یعنی اس جگہ کا وہ افق ہوتا ہی نہیں جس جگہ سے جب وہ اوپر چڑھ کر دیکھ رہے ہوتے ہیں چاند کو تو وہ در حقیقت کسی اور ملک کے افق کا چاند دیکھ رہے ہیں اپنے ملک کا چاند دیکھ ہی نہیں رہے۔ اس لئے معقولیت کو اختیار کرنا چاہئے ، روح کو سمجھنا چاہئے پیغام کی۔ شَهِدَ سے مراد صرف اتنا ہے در حقیقت کہ جب تمہیں قطعی طور پر علم ہو جائے اس وقت شروع کرو اور تو ہمات میں مبتلا نہ ہو۔ چنانچہ دوسری حدیثوں سے اسی مضمون کی وضاحت ملتی صلى الله عل وسا ہے۔ حضرت رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اگر چاند دکھائی نہیں دیتا تو وہموں میں مبتلا ہو کر پہلا روزہ نہیں رکھنا۔ (مسلم کتاب الصیام حدیث نمبر:۱۷۹۶) چنانچہ بعض دفعہ اس زمانے میں بعض لوگ ایک دن یا دو دن پہلے روزے شروع کر دیا کرتے تھے کہ کہیں یہ نہ ہو کہ چاند نکل آیا ہو اور ہم روزے سے محروم رہے جائیں۔ تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ہرگز تو ہمات میں مبتلا ہو کر روزہ نہیں رکھنا شہد کا حکم ہے۔ یعنی قطعیت کا جب علم ہو جائے کہ چاند نکلا ہے تو رکھو ورنہ نہیں اور اندازہ کا مفہوم اس وقت فرمایا جب کہ انتیس واں دن گزر چکا ہو اور پھر بھی چاند دکھائی نہ دے۔ اس پر آپ نے قدر و ا کا ارشاد فرمایا( بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر : ۱۷۶۷)۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ تمہیں پتا ہی ہے کہ تمہیں سے زیادہ تو مہینہ ہوتا ہی نہیں اس لئے وہاں مشہد سے مراد وہاں بھی دیکھنا نہیں ہوگا بلکہ قطعیت ہی ہے۔ بظاہر لفظ قدروا استعمال فرمایا ہے لیکن مفہوم وہی بنتا ہے کہ قرآن کریم نے جب شہد کا لفظ فرمایا تو مراد ہے کہ قطعی طور پر علم ہو جائے چونکہ تم چاند نہیں دیکھ سکے اس لئے تمہیں اب اندازہ سے بھی قطعی علم ہو سکتا ہے۔ اب اس میں ایک اور مضمون ہمارے لئے کھول دیا ہے۔ تقدیر کے ذریعے جو علم قطعی حاصل