خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 250
خطبات طاہر جلدے 250 خطبه جمعه ۱۵ اپریل ۱۹۸۸ء بھی دو مسلمان ممالک میں اگر چاند نظر آگیا تو ہم یہاں اس کے مطابق روزہ شروع کر دیں گے۔ اگر چہ احناف کا یہی مسلک ہے یعنی حنفی یہی عقیدہ رکھتے ہیں کہ کسی جگہ کی جو رؤیت ہے وہ ہر جگہ کے لئے ہو جائے گی اور ہر رؤیت کو الگ الگ شمار نہیں کیا جاسکتا لیکن دیگر بہت سے فقہاء بلکہ اکثریت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر شہر، ہر علاقے کی روئیت اپنی ہے۔ اس لئے ضروری نہیں ہے کہ سارے صلى الله عالم اسلام کے لئے یا ساری دنیا کے لئے ایک ہی دن رمضان شروع ہو اور ایک ہی دن ہو جائے اور یہ بات جغرافیائی جغراء لحاظ سے بھی قطعی طور پر درست ثابت ہوتی ہے اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بھی یہی رواج تھا۔ چنانچہ حضرت ابن عباس کا بھی یہی مسلک تھا کہ جس ملک میں یا ملک کے جس حصے میں جب چاند دیکھا جائے وہ ملک اس کے متابعت پھر اور دوسرا حصہ ملک کا اس کے متابعت کرے۔ دوسرے ملک کے دوسرے حصے میں جب دیکھا جائے وہ اس کے متابعت کرے۔ اب اگر آج کل ہم غور کریں مثلاً انڈونیشیا کا افق ہے ، چین کا افق ہے اس کا اور مغرب یعنی یہاں کے افق کا بہت فرق ہے بعض دفعہ دو دن کا بھی فرق پڑ جاتا ہے چاند نکلنے میں ۔ خود ہمارے پاکستان کے ساتھ ہمسایہ ملک افغانستان ہے۔ بعض دفعہ پاکستان سے دو دن پہلے افغانستان میں روزے شروع ہو جایا کرتے تھے اور اسی طرح کم و بیش دو دن پہلے وہاں عید ہو جایا کرتی تھی۔ تو وہ مسلک جس کو قانون قدرت غلط ثابت کر دے اس کی پیروی نہیں کرنی چاہئے اور جبکہ اکثریت فقہا کی اس پر متفق ہے اور پھر خدا تعالیٰ کی سنت نے قانون قدرت کی صورت میں ہمارے سامنے ثابت کر دیا کہ مسلک درست ہے تو جماعت احمد یہ اسی کی پیروی کرنے والی ہے۔ لیکن شہد سے مراد ظاہری رؤیت ہے یا اس بات کی قطعی گواہی کہ چاند کل آیا ہے؟ یہ وہ بحث ہے جو مختلف وقتوں میں مختلف رنگ میں اٹھائی گئی اور اس زمانہ کے جو ذرائع تھے چاند کے طلوع کو معلوم کرنے کے ان کے اوپر بحث اٹھائی گئی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات کو خاص طور پر پیش فرمایا کہ زائچوں کے ذریعے چاند وغیرہ کے نکلنے کا اگر تعلق درست تسلیم کر لیا جائے تو اس سے بڑا فتنہ اور فساد پیدا ہوگا کیونکہ زائچے خود قابل اعتماد نہیں ہیں۔ دو منجموں کے زائچے آپس میں نہیں ملتے اور اس لئے رؤیت کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رؤیت کے مضمون میں یہ بھی بیان فرمایا کہ مغرب میں جو طرح طرح کے آلات دور بینیں اور خورد بینیں اور اسی قسم کے ایجاد ہو رہے ہیں ۔ وہ جتنی بھی قسمیں میں ہیں وہ