خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 241 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 241

خطبات طاہر جلدے 241 خطبه جمعه ۱۸ اپریل ۱۹۸۸ء جب تک آپ فیض رساں رہیں گے قرآن کریم کا یہ فتوٹی آپ پر صادر آتا رہے گا کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( آل عمران: 1) تم چونکہ بنی نوع انسان کی بہبود صلى الله عروسه کے لئے وقف ہو اس لئے تم دنیا کی بہترین امت ہو اور حضرت محمد مصطفی ﷺ کی طرف منسوب ہونے کا حق کسی کو مل ہی نہیں سکتا جب تک وہ بہترین امت نہ بنے کیونکہ جو رسولوں میں بہترین ہے اس کی طرف منسوب ہونے کا سچا حق صرف اس کو نصیب ہو سکتا ہے جو بہترین امت ہو۔اس لئے دونوں چیزیں لازم و ملزوم ہیں۔ اس کو آپ خوب پیش نظر رکھیں کہ اپنے فیض کو بڑھانے کی کوشش کریں اور جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو فیض رسانی کے جذبے عطا کئے ہیں انہیں مزید آگے بڑھائیں اور مزید نو جوانوں کو فیض رسانی کے کاموں میں ساتھ شامل کریں۔ اس سے ان کے اندر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک نئی پاکیزہ زندگی پیدا ہو گی ۔ اس دور میں جماعت احمدیہ نے ایک سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے کیا کچھ کھویا ہے، کیا کچھ پایا ہے اس پر اگر آپ نظر کرتے ہیں تو بعض چیزوں کے لحاظ سے بڑی فکر پیدا ہوتی ہے۔ میں خطبوں میں بار بار یاد بھی کراتا ہوں کہ اپنی اخلاقی قدروں کو بلند کریں، اپنی بعض صلاحیتیں جن کو آپ نے کھویا ہے ان کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کریں لیکن بعض دوسری صورتوں کے لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ جماعت نے بہت کچھ پایا بھی ہے اور پہلی صدی گویا اس صدی کے سر پر جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جماعت کو از سرِ نو مردوں میں سے زندہ کر رہے تھے اس وقت ابھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی تعلیم بعض پہلوؤں سے پوری طرح جذب نہیں ہوئی تھی اور وہ انقلابی تبدیلیاں جو وقت چاہتی ہیں وہ ابھی جماعت میں پیدا نہیں ہوئی تھیں۔ چندے کا نظام آپ دیکھ لیجئے ۔ باوجود اس کے کہ تقویٰ کے بہت اعلیٰ معیار پر وہ لوگ تھے لیکن چندے کے لئے کوئی باقاعدہ منظم قربانی کرنے کے لئے ابھی ان کے اندر نہ صلاحیت موجود تھی نہ اس کے انتظامات موجود تھے۔ اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریک پر کسی نے سب کچھ پیش کر دیا کسی نے کچھ پیش کیا۔ بڑے خلوص کے ساتھ پیش کیا لیکن منظم طور پر یہ کہنا کہ جماعت کی بھاری اکثریت ان خدمت کے کاموں میں شامل تھی یہ بالکل غلط بات ہوگی ۔ آج ہم کہہ سکتے ہیں کہ بہت ملک ایسے ہیں جہاں جماعت کی بھاری اکثریت خدمت دین کے لئے مالی قربانی میں پیش پیش ہے۔ اب یہ وسعت جو ہے