خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 240 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 240

خطبات طاہر جلدے 240 خطبه جمعه ۱۸ اپریل ۱۹۸۸ء اجازت ہے، جہاں قتل و غارت کی تلقین کی ان کو اجازت ہے، جہاں پتھراؤ کرنے کی ان کو اجازت ہے، جہاں مسجد میں جلانے کی ان کو اجازت ہے وہاں یہ شکلیں کس رنگ میں، کس بھیانک صورت میں ظاہر ہوتی ہوں گی ۔ وہاں جماعت احمدیہ کا یہ کردار کہ آپ ہماری پرواہ نہ کریں ہم بالکل خدا کے فضل سے قائم ہیں اور ثبات قدم ہمیں نصیب ہوا ہوا ہے۔ ہم بڑی ہمت کے ساتھ خدا تعالیٰ سے دعائیں کرتے اس ابتلا میں سے گزر رہے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ خدا ہمارے ساتھ ہے اس لئے ہمارا کوئی مستقل نقصان نہیں کر سکتا۔ یہ پیغام وہاں سے آتے ہیں گویا اس کے کہ مجھے ضرورت پڑے کہ ان کو صبر کی تلقین کروں ان کو میرا فکر ہے اور باہر کی جماعتوں کا فکر ہے وہ ہمارے غم میں اتنی زیادہ فکر مند نہ ہو جائیں۔ یہ ساری علامتیں ہیں زندگی کی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جس کو امام مقرر کیا گیا ہو اس کے سوا اس مادہ پرستی کی دنیا میں یہ معجزہ دکھا ہی نہیں سکتا کوئی ۔ نا ممکن ہے ایک عام انسان کے لئے کہ اسی مٹی کو پکڑے اور اسی ضمیر سے ایک نئی روح والی ، ایک زندہ جماعت پیدا کر دے جو پرندوں کی طرح آسمان کی بلندیوں میں اڑنے کی طاقت رکھتے ہوں۔ یہی مسیحیت کا معجزہ ہے جو کسی نہ کسی شکل میں پہلے بھی نمودار نمودار ہوا ہوا نی تھا لیکن حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی برکت سے مسیح محمدی کے ہاتھوں بہت بڑ بڑی شان کے ساتھ یہ دنیا میں رونما ہو رہا ہے اور دنیا کے ہر ملک میں رونما ہو رہا ہے۔ صلى الله افریقہ میں میں نے جاکے دیکھا۔ وہاں کی جماعت کے اندر ایک ایسا خدا تعالیٰ کے فضل سے روحانی انقلاب آیا ہوا ہے کہ ارد گرد کے لوگوں کے مقابلہ پر وہ ایک نئی مخلوق معلوم ہوتے ہیں ۔ چنانچہ بعینہ یہی بات وہاں کے بعض افسروں نے مجھ سے کہی کہ ہم تو حیرت سے دیکھتے ہیں کہ آپ لوگ ہمارے ارد گرد بسنے والے لوگوں میں کیسی پاک تبدیلی کرتے ہیں کہ نئے لوگ بن جاتے ہیں اور ان کے سارے رجحانات خدمت کی طرف مائل ہو جاتے ہیں ۔ نہ کوئی تخریب کاری ، نہ کوئی جرم، نہ کسی اور کو کسی رنگ میں تکلیف دینا بلکہ لوگوں کے دکھوں کے ازالہ کرنا ، ان کی خدمت کرنا اور ملک کی بھی خدمت ، قوم کی بھی خدمت۔ ہر رنگ میں یہ لوگ وقف ہیں اس کام کے لئے کہ ان کے ذریعے کسی نہ کسی رنگ میں دوسروں کو فیض پہنچے۔ اور یہ فیض رسانی اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت میں کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے اور اس کا دائرہ پھیل رہا ہے۔ یہ ایک بہت بڑی چیز ہے جس کی طرف میں آپ کو متوجہ کرتا ہوں کہ اس کو آگے بڑھاتے رہے ہیں اور اس کو زندہ رکھنا ہمارا فرض ہے۔ ۔