خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 536
خطبات طاہر جلد ۶ 536 خطبه جمعه ۱۴ اگست ۱۹۸۷ء سے بیٹھ رہنے والے ہیں وہ اور مجاہدین فی سبیل اللہ ایک جیسے نہیں یعنی وہ مجاہدین فی سبیل اللہ جو اپنے اموال کے ذریعے بھی جہاد کر رہے ہیں، اپنی جانوں کے ذریعے بھی جہاد کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے مجاہدین کو جو اپنے اموال اور جانوں کے ذریعے خدا کی راہ میں جہاد میں مصروف ہیں بیٹھ رہنے والوں پر ایک غیر معمولی درجہ عطا فرمایا ہے ، ایک شاندار درجہ عطا کیا ہے وَكُلاً وَعَدَ وَ عَدَا اللهُ الْحُسْنى حالانکہ ویسے تو سب مومنوں کے لئے ہی خدا تعالیٰ نے حسن سلوک کا وعدہ فرمایا ہے سب سے ہی حسنہ عطا کرنے والا ہے لیکن وَفَضَّلَ اللهُ الْمُجْهِدِينَ عَلَى الْقُعِدِينَ أَجْرًا عظیما لیکن مجاہدین کے ساتھ جو غیر معمولی فضلوں کا سلوک ہے بیٹھ رہنے والوں کو اس کے ساتھ کوئی نسبت نہیں اُن کے اوپر غیر معمولی درجہ اور غیر معمولی زیادہ رحمتوں کی بارشیں ہونگیں جو مجاہدین ہیں دَرَجَتِ مِنْهُ یہ ایسے عظیم مقامات ہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ان کو ملنے والے ہیں ۔ درجہ کی بجائے یہاں درجات کہہ کر یہ غلط نہمی دور فرمادی کہ کوئی ایک ہی خاص مرتبہ ان کو عطا ہو گیا ۔ درخت منہ میں ایک لامتناہی درجات کے سلسلے کا وعدہ فرما دیا گیا۔ تو پہلا لفظ درجہ جب واحد میں استعمال ہوا تو اس کے بعد درجات نے یہ مسلہ کھول دیا کہ وہ درجہ کن معنوں میں ہے۔ عربی قاعدہ ہے کہ جب نکرہ میں ایک واحد لفظ کو استعمال کیا جاتا ہے خصوصیت کے ساتھ اس صلى الله کے اندر بہت ہی عظیم الشان معنی پیدا ہو جاتے ہیں یعنی غیر معمولی شان پیدا ہو جاتی ہے اس میں ۔ انہی معنوں میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو رَسُولًا مِنْهُمْ کے طور پر بیان فرمایا گیا کہ ایک بہت ہی عظیم الشان رسول ہے۔ اسی طرح قرآن کریم میں اور بھی کئی مرتبہ آنحضرت ﷺ کا نام نمرہ کے طور پر لے کر آپ کے عظیم الشان لامتناہی حد ادراک سے باہر درجات کی طرف اشارہ فرمایا گیا۔ صلى الله پس درجات میں یہ بتایا کہ وہاں درجہ کسی ایک خاص فضل کی طرف اشارہ کرنے کے لئے نہیں آیا تھا بلکہ درجہ سے مراد یہ تھی کہ غیر معمولی ، بے انتہا بلند مقام اور مرتبہ ان کو عطا کیا گیا ہے اور اس مقام اور مرتبے میں پیچھے بیٹھ رہنے والے شامل نہیں ہیں ۔ دَرَجَتِ مِنْهُ یہ مقام اور مرتبہ ایسا ہے کہ اس کے نتیجے میں کثرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو عظیم الشان سے ان کو عظیم الشان مراتب عطا ہونے والے ہیں وَمَغْفِرَةً وَرَحْمَةً اور بخشش بھی ہے اور رحمت بھی ہے وَكَانَ اللهُ غَفُورًا رَّحِيمًا اور اللہ تعالیٰ بہت ہی مغفرت کرنے والا اور بے حد رحم فرمانے والا ہے۔