خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 477
خطبات طاہر جلد 1 477 خطبہ جمعہ ۷ ارجولائی ۱۹۸۷ء دوست کھڑے گتیں مار رہے ہیں ان کو کہا جائے کہ آپ تیاری کیوں نہیں کرتے۔ آپ کا وضوا گر نہیں ہے تو پھر آپ کو وضو کرنا چاہئے۔ پیار اور محبت کے ساتھ آہستہ آہستہ یہ تربیت کرنی شروع کریں۔ عموماً گزشتہ تجربے سے بھی یہی پتا چلتا ہے کہ اللہ کے فضل سے نماز کا معیار کافی بلند ہے لیکن یورپ میں صبح کی نماز کا معیار بہت گرا ہوا ہے۔ باقی جگہوں میں بھی پاکستان میں بھی یہ معیار گرتا رہتا ہے پھر اس کو کوشش کر کے اونچا کیا جاتا ہے کیونکہ نیند کے غلبے کے وقت ہوتے ہیں بعض لیکن یورپ میں اور شمالی یورپ میں خصوصیت کے ساتھ اس کا موسم سے بھی تعلق ہے۔ راتیں بہت چھوٹی ہو جاتی ہیں بعض اوقات اور سارا دن کام کے بعد رات کو خصوصاً وہ لوگ جو دیر سے سونے کے عادی ہیں پھر صبح اُٹھ نہیں سکتے ۔ اس لئے صبح کی نماز کا خاص اہتمام کرنا چاہئے اور اس روایت کو یہاں منتقل کرنا چاہئے جو بہت ہی پیاری روایت ہے کہ اذان سے بھی پہلے درود پڑھنے والے بچوں کی پارٹیاں صل علیٰ کے گیت گاتے ہوئے پھریں اور کثرت کے ساتھ وہاں صل علیٰ کا شور بلند ہو۔ وہ روایتی نغمے جو آنحضرت ﷺ کے عشق اور مدح میں گائے جاتے ہیں ان کی آواز میں یہاں اسلام آباد میں بھی سنائی دیں۔ وہ اسلام آباد جو وہاں پاکستان میں ہے مجھے نہیں پتا وہاں یہ نغمے سنائی دیتے ہیں کہ نہیں لیکن جو سنانے والے ہیں ان تو اس جرم میں قید کر لیا جاتا ہے اور جو نہیں سنانے والے وہ ہم جانتے الله ۔ ہیں کہ ان کو عادت ہی نہیں ان باتوں کی ۔ تو اس روایت کو یہاں زندہ کریں اور ہر دنیا کے ملک میں جہاں جہاں جماعت کے اجتماعات ہوں وہاں اس شاندار روایت کو زندہ کریں اور قائم کریں اور انگریز ریز بچوں کو عادت ڈالیں ان کی زبان سے آپ کو بہت پیارے لگیں گے یہ نغمے اور جو فریقین ہیں وہ افریقین بچوں کو عادت ڈالیں ۔ ان کی زبان سے یہ نغمے بہت پیارے لگیں گے اور اسی طرح جرمن جو ہیں وہ جرمن بچوں کو عادت ڈالیں ، ان کی اگلی نسلوں کو ساتھ شامل کریں۔ اس سے انشاء اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں کو بچپن ہی سے جماعتی روایات کا علم ہوگا ، اس سے وابستہ ہونے کی عادت پڑے گی بلکہ وابستہ ہونے کا لطف حاصل ہونا شروع ہو جائے گا۔ اس ضمن میں جو بیرونی مہمان ہمارے آ رہے ہیں ان کو بھی کچھ کام ضرور دیں کیونکہ بہت سے ایسے ملکوں سے آتے ہیں جہاں ان کے لئے انتظام میں شامل ہونا ممکن نہیں ہوتا تو کچھ نہ کچھ کام ان کو دیا جائے تو وہ شوق سے قبول کریں گے اور جماعت سے پہلے کی نسبت زیادہ وابستگی محسوس *