خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 476
خطبات طاہر جلد ۶ 476 خطبہ جمعہ ۷ ارجولائی ۱۹۸۷ء سے ممالک اور ہیں وہاں پاکستانی احمدی جنہوں نے جا کر ان کو اسلام سکھایا اور احمدیت کا پیغام دیا وہ ایک بالکل معمولی اقلیت ہیں اور سارے انتظام ان لوگوں نے ہی سنبھالنے ہیں اور اب دن بدن ان پر زیادہ ذمہ داریاں ڈالی جا رہی ہیں ۔ اس لئے ابھی سے ان کی تربیت کریں آخر انہوں نے اپنے کام خود اپنے ہاتھوں میں لینے ہیں اور اس پہلو سے مختلف انتظامات میں ان کو اس طرح شامل کرنا چاہئے کہ کبھی ایک انتظام سے ان کو واقفیت ہو جائے کبھی دوسرے انتظام کی واقفیت ہو جائے۔ پہلے انگلستان میں عموماً یہ رواج تھا اور غالبا اب بھی ہوگا کہ فیکٹریوں کے بڑے بڑے امیر مالک اپنے بچوں کو فیکٹریوں میں اس قسم کی ملازمتیں دلواتے تھے شروع میں کہ بطور مزدور بھی وہ کام کرے، بطور داروغہ بھی کام کرے، بطور چوکیدار بھی کام کرے۔ غرضیکہ جتنے معمولی چھوٹے موٹے کاموں کے شعبے ہیں ان میں سے وہ ان کو پھراتے تھے پھر درجہ بدرجہ اوپر کی طرف بھی لے کر بڑی تیزی کے ساتھ ، یہ نہیں کہ مزدور کی طرح بے چاروں کی اکثر زندگی اپنی ختم ہو جائے لیکن تھوڑا تھوڑا نمونہ ان کو چکھاتے تھے کہ یہ ہوتی ہے مزدوری ، اس طرح دارونگی کی جاتی ہے، اس طرح چوکیداری کی جاتی ہے۔ اس تربیت کے بعد جب وہ آگے نکل کر اپنے کاموں کو سنبھالتے تھے تو بہت بہتر مینیجر ثابت ہوتے تھے۔ آج کل میں جانتا نہیں کہ یہ ہے کے نہیں لیکن ہے بہت عمدہ طریق اور جماعت احمد یہ میں خود بخو د رائج ہے، ہمیشہ سے رائج ہے۔ کبھی یہ نہیں ہوا کہ کسی بڑے وکیل کا کسی بڑے شخص کا بیٹا از خود ہی بڑا بن گیا ہوا انتظام میں ۔ سارے بچپن سے ، چھوٹی عمر میں ہی چھوٹے چھوٹے انتظاموں میں تربیت پا کر اوپر نکل رہے ہوتے ہیں آہستہ آہستہ اور پھر وہی ترقی پاتا ہے جو صلاحیت رکھتا ہے۔ اس لحاظ سے ان قوموں کی تربیت ضروری ہے۔ ان میں سے جہاں تک ممکن ہو ہر ایک کو زیادہ سے زیادہ شعبوں کی تربیت بھی دیں تا کہ اجتماعی انتظامی صلاحیت بھی ان کے اندر پیدا ہو۔ دوسرا اس ضمن میں یہ پہلو خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ اس دوران نمازوں کی نگرانی کی جائے اور جب نمازیں کھڑی ہو جاتی ہیں اس وقت نظر ڈالیں کہ کوئی بچہ کوئی نو جوان بغیر نماز کے باہر نہ ہو، جو ڈیوٹی پر ہے وہ تو ڈیوٹی پر ہے اس کو خدا تعالیٰ نے مستثنی فرمایا ہے لیکن اس کے علاوہ کوئی شخص بھی ایسا نہ رہے جو نماز میں شامل نہ ہو اور اذان کے وقت سے ہی یہ نصیحت شروع ہو جانی چاہئے ۔ جو