خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 229 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 229

خطبات طاہر جلد ۶ 229 خطبه جمعه ۲۷ مارچ ۱۹۸۷ء چلی جاتی ہیں اور کچھ عرصہ تک وہ رستہ چمکتا رہتا ہے۔ یہ مشاہدہ جو لوگ جانتے ہیں اس قسم کی کیمیاوی چیزوں کو جن کے اندر خدا نے چپکنے کا مادہ رکھا بھی ہوا ہے وہ کرتے بھی ہیں اور تماشے کے طور پر دکھا بھی ۔ کھا بھی سکتے ہیں۔ وہ لکیر جہاں جہاں سے گزرے گی وہ چیز ایک لکیر چھوڑتی چلی جائے گی جو چمکتی رہتی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں خدا نے تقوی کے اندر جو نور رکھا ہے اس میں بھی یہی کیفیت ہے۔ جن راہوں سے یہ لوگ گزرتے ہیں ان راہوں کو چمکا دیتے ہیں۔ غرض جتنی بھی تمہاری راہیں ہیں تمہارے قومی کی راہیں ہیں تمہارے حواس کی راہیں وہ سب نور سے بھر جائیں گی اور تم سراپا نور ہو کر چلو گئے۔ ( آئینہ کمالات اسلام ، روحانی خزائن جلد ۵ ، صفحہ: ۱۷۸۔۱۷۷) صلى الله لطف کی بات یہ ہے کہ ان راہوں کی تشریح فرمائی یہ گلیاں جو ظاہر کی گلیاں مراد نہیں ہیں کیونکہ جس نور کی بات ہو رہی ہے اس کا ان ظاہری جگہوں سے تعلق نہیں۔ جتنی راہیں، تمہاری راہیں، تمہارے قومی کی راہیں تمہارے حواس کی راہیں ہیں وہ سب نور سے بھر جائیں گی اور تم سرا پانور میں ہی چلو گے۔ یہ مضمون بہت ہی وسیع اور بہت دلچسپ اور بڑا ہے۔ میں نے نمونے کے طور پر ایک آدھ بات آپ کے سامنے رکھی ہے۔ مگر خلاصہ یہی ہے کہ محبت ہے تو آنحضرت ﷺ کی پیروی کرو اور ثابت کہ تمہیں محبت ہے۔ محبت ہے تو آنحضرت ﷺ کی پیروی اس محبت کو اتنا بڑھا دے گی اور اتنا چ کا دے گی کہ اس پیروی کے نتیجے میں خدا تم سے محبت کرنے لگے گا اور پھر تمہارا دل یقین سے بھر جائے گا تم کہ تمہاری محبت سچی ہے اور اس رستے میں سفر کے دوران تمہیں نور نصیب ہوگا ، تمہیں تقومی عطا ہو گا، تمہیں عقل کل معلوم ہوگی، تمہیں معلوم ہوگا کہ یہ عقل کل جس کا قصہ سنا کرتے تھے وہ کیا ہے۔ کس طرح ہر بات انسان کی درست ہو سکتی ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ کی محبت سے روشنی حاصل کرے۔ اب چونکہ وقت زیادہ ہو گیا ہے اس مضمون کا ایک اور حصہ رہتا تھا جو میں انشاء اللہ آئندہ خطبہ میں بیان کروں گا۔ چونکہ جماعت کے سامنے اس مضمون پر غور کرتے ہوئے ایک پروگرام رکھنے کی طرف میرا دل مائل ہوا جو میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تصرف ہے وہ انشاء اللہ آئندہ خطبہ میں جب اس مضمون کو کچھ اور آگے بڑھاؤں گا تو آپ کو بتاؤں گا کہ ایک بہت ہی خدا تعالیٰ نے روشن