خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 228
خطبات طاہر جلد ۶ 228 خطبه جمعه ۲۷ مارچ ۱۹۸۷ء ایک صاحب تجربہ کے اور کوئی بیان نہیں کر سکتا۔ بسا اوقات صحابہ کی روایات میں یہ بات پڑھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک بات کہی اور خدا نے اسی طرح پوری کر دی اور یہ بات حضرت رسول اکرم ﷺ کی پیشگوئی کے مطابق تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے بعض غلاموں کے متعلق یہ خبر دی تھی کہ اگر وہ خدا پر قسم بھی کھالیں تو خدا ان کے پیار کی وجہ سے ان قسموں کو پورا کر دے صلى الله گا۔ حالانکہ خدا کی طرف سے ان کو خبر نہیں دی گئی۔ صلى الله عروسه تو جو وعدہ دیا گیا تھا حضرت محمد اتھا حضرت محمد مصطفی کو جس کی بنیا د قرآن کی اس آیت میں ہے:۔ يَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانَا اور پھر فرمایا وَ يَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ اور تمہارے لئے ایک نور پیدا کرے گا جس کے ذریعے تم چلو گے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں وہ نو رایسا کامل ہوتا ہے کہ اٹکل سے بھی بات کرے کوئی آدمی تو خدا اسے سچی کر کے دکھاتا ہے۔ فرماتے ہیں :۔ تمہاری آنکھوں میں بھی نور ہوگا اور تمہارے کانوں اور تمہاری زبانوں اور تمہارے بیانوں اور تمہاری ہر ایک حرکت اور سکون میں نور ہوگا“۔ یہ وہ نور ہے جس کا دنیاوی کوشش سے کمائے ہوئے اخلاق کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ دنیا جس کو نور سمجھتی ہے اس کا تو آنکھوں سے تعلق ہے یا بصیرت سے کوئی تعلق ہے لیکن کانوں میں نور کیسے ہو سکتا ہے دنیا کے تصور میں یہ بات آہی نہیں سکتی ۔ حرکت میں کیسے نور ہو سکتا ہے یا سکون میں کیسے نور ہو سکتا ہے اور زبانوں اور بیانوں میں کیسے نور ہو سکتا ہے لیکن صاحب تجربہ جانتا ہے کہ تقویٰ کے نتیجے میں جو اللہ تعالیٰ نور عطا فرماتا ہے وہ زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی ہو جاتا ہے۔ اس میں ایک چمک آجاتی ہے اور دنیا بھی اس فرق کو دیکھنے لگتی ہے۔ یہ ایسا فرق نہیں ہوتا جو انسان کے اندر ہی صرف محسوس ہوتا ہو۔ یہ فرق ہر جگہ ظاہر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ پھر فرماتے ہیں :۔ جن راہوں پر تم چلو گے وہ راہ نورانی ہو جائیں گی۔ یعنی رستوں پر اپنا نور چھوڑتے چلے جاؤ گے۔ جس طرح ایک کیمیاوی روشنی سے منور ہونے والی چیزیں بسا اوقات جن جگہوں پر چلتی ہیں وہاں کیمیاوی مادے کا کچھ نہ کچھ اثر پیچھے چھوڑتی