خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 822 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 822

خطبات طاہر جلد ۵ 822 خطبه جمعه ۱۲ دسمبر ۱۹۸۶ء میں جماعت احمد یہ ختم نبوت کی قائل ہے اور جس عرفان کے ساتھ اور جس گہری معرفت کے ساتھ جماعت احمد یہ ختم نبوت کی قائل ہے دنیا کی ساری جماعتیں مل کر بھی اتنی قائل نہیں اور اس ضمن میں مختلف خطبات میں بھی روشنی ڈال چکا ہوں ، جلسہ سالانہ کی تقریر میں بھی ، سوال و جواب کی محافل میں بھی اس کے سارے پہلو جس حد تک بھی ممکن تھے ان کو خوب کھول کھول کر میں جماعت کے سامنے بھی اور غیر احمدی سوال کرنے والوں کے سامنے بھی پیش کر چکا ہوں بار بار ۔اس لئے اس وقت اس بحث کو تو یہاں کھولنے کی گنجائش نہیں ۔ دوسرے یہ بحث تو سارا دن گفتگو کے بعد بھی ختم نہیں ہو سکتی ہے لیکن ایک بات قطعی ہے کہ ہر احمدی کامل یقین کے ساتھ ہر مخالف کو یہ چیلنج کر سکتا ہے کہ بحث کا عنوان یہ نہ رکھو کہ ہم قائل ہیں یا نہیں، بحث کا عنوان یہ ہوگا کہ ”ہم تم سے زیادہ قائل ہیں اور یہ ثابت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انصاف اور تقویٰ سے کسی غیر جانبدار پینل کو مقرر کر لو اور جب یہ غیر جانبدار پینل مقرر ہوتے ہیں تو دلائل سن کر فیصلہ ہمارے حق میں ہی دیتے ہیں۔ ابھی کراچی میں ایک ہمارے بڑے مخلص نوجوان جن کو تبلیغ کا جنون ہے اور جنون سے مراد یہ ہے کہ ولولہ کے لحاظ سے جنون، ویسے بڑی حکمت کے ساتھ کرتے ہیں۔ انہوں نے بعض اپنے محکمہ کے دوسرے مولوی نما لوگوں سے جب بحث اٹھائی اس معاملہ پر تو انہوں نے آخر مجبور کیا کہ پہلے ثالث مقرر کرو اور وہ فیصلہ کرے پھر اس کے فیصلہ کو تسلیم کرو تو پھر ہم بحث کریں گے ۔ اب ایک بظاہر یہ Tactical یعنی فن جہاد میں ایک غلط قدم اٹھانے والی بات تھی کہ ایک ایسے ثالث کو تسلیم کیا انہوں نے جو احمدی ہی نہیں اور غیر مسلم بھی نہیں تھا۔ وہ مسلمان تھا جو احمدیوں کے مقابل پر آیت خاتم النبیین کی وہ تشریح کرنے والے ہیں جو غیر احمدی علماء کرتے ہیں۔ اس کی بڑی جرات کہہ لیں یا سادگی کہہ لیں کہ اس نے ان صاحب کو ثالث بنالیا اور مجھے دعا کے لئے خط لکھنے شروع کر دیئے ۔ میں نے ان سے کہا کہ پہلے پوچھ تو لیا ہوتا۔ یہ اصولاً غلط بات ہے کہ ایک ایسے شخص کو ثالث بنالینا جو دوسرے کا ہم عقیدہ ہے اور تمہارے مخالف ۔ لیکن بہر حال اگر تم نے کر لیا ہے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد فرمائے گا۔ وہ بھی دعا کرتا رہا کوشش کرتا رہا اور میں بھی دعا کرتا رہا۔ ابھی کل ہی اس کا خط ملا ہے کہ ثالث نے نہ صرف ہمارے حق میں فیصلہ دیا بلکہ مجھے کہا ہے کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں ۔ دلائل اس قوت کے ساتھ جماعت احمدیہ کے ساتھ ہیں کہ جس میں تقویٰ کی رگ ہو گی وہ اگر ثالث بنے تو لازماً