خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 820
خطبات طاہر جلد ۵ 820 خطبه جمعه ۱۲ دسمبر ۱۹۸۶ء اس کی غیر معمولی اہمیت ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار ا یسے احکامات جاری کئے گئے اور بار بار بھول جانے والے گورنروں کو یاد دہانیاں کروائی گئیں کہ اور اس ظلم کو تیز کرو اور اس ظلم کو تیز کرو ابھی یہ ظلم پوری شدت اختیار نہیں کر سکا ہے اور ذلیل کرو۔ لیکن جو کوششیں حکومت کر سکتی تھی اور کر رہی ہے اور جو ظلم و تعدی بعض مولویوں اور ان کے چیلے چانٹوں کی طرف سے روا رکھی جاسکتی تھی وہ سب رکھی گئی۔ کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی لیکن کلیہ ناکام و نامراد ہو گئے اس بات میں کہ جماعت احمدیہ کے دل سے تو در کنار سینوں سے ہی کلمہ طیبہ نوچ کے پھینک سکیں۔ جیلوں میں ڈالا گیا۔ جب کلمہ کے بیج ان سے چھین لئے گئے تو جو بھی لکھنے کا ذریعہ ان کے پاس میسر تھا انہوں نے اپنی قمیضوں پر کلمے لکھ لئے ۔ جب تمیض پھاڑ کر پھینک دی گئی تو اپنی چھاتی پر کلمے لکھ لئے اور کھلم کھلا اعلان کیا تم چھید تے چلے جاؤ اور نوچتے چلے جاؤ گوشت مگر جو حصہ بھی ننگا ہو گا ہم کلمہ طیبہ جس حد تک خدا ہمیں توفیق دے گا لکھتے چلے جائیں گے اور سارے پاکستان میں ایسی دلیری کے ساتھ ایسی مجاہدانہ شان کے ساتھ جماعت احمد یہ کلمہ طیبہ، کلمہ شہادۃ سے لپٹی رہی اور چمٹی رہی کہ دشمن بالآخر اس بات پر مجبور ہو گیا اور یہ ماننا پڑا کہ ہم اس تحریک میں نامراد ہو گئے ہیں۔ جماعت احمدیہ کو کلمہ طیبہ سے الگ نہیں کر سکے اور الگ نہیں کر سکے تو مرتد کی سزا قتل کا بہانہ کیسے بنائیں گے۔ یہ اگلا سوال تھا ۔ اب انہوں نے دوسری لائن اختیار کی اپنے دفاع کی اور معلوم ہوتا ہے کہ یہی ان کی شکست کا اعلان ہے۔ چنانچہ 20 نومبر کو گزشتہ ماہ پاکستان کی ٹیلیویژن پر ایک ملاں مجیب الرحمن نامی نے تقریر کی اور اس تقریر کا لب لباب یہ تھا کہ ٹھیک ہے کلمہ کے انکار سے انسان مرتد ہوتا ہے لیکن اصل بات یہ نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کلمہ طبیہ کے کچھ اور بھی اثرات ہیں جن میں سے کسی ایک پہلو کو بھی نظر انداز کر دیا جائے تو اس سے بھی مرتد ہو جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ کی جو صفات بیان ہوئی ہیں ان میں سے کسی ایک صفت کا انکار بھی کر دے تو کلمے کا بھی انکار ہے پس جو شخص بھی ختم صلى الله نبوت کا منکر ہو جائے وہ مرتد ہے اور جو اجرائے نبوت کا قائل ہو جائے وہ مرتد ہے۔ یہ دلیل انہوں نے قائم کرنے کی کوشش کی۔ اب سوال یہ ہے کہ اس میں کتنی اور تنقیحات ہیں جن کے ساتھ ان کی کہانی مکمل ہوئی تھی۔ پہلی بات یہ کہ جماعت احمد یہ مرتد ہے۔ یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ جماعت