خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 763 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 763

خطبات طاہر جلد ۵ 763 خطبه جمعه ۱۴ نومبر ۱۹۸۶ء چنانچہ میں نے بعض خط پڑھے ہیں اتنے درد ناک بعض ہمارے اپنے بھائیوں کے نام بچپن کی باتیں ہیں لیکن ایسا گہرا مجھ پر اثر چھوڑ گئیں کہ آج تک وہ اثر مٹ نہیں سکتا کہ ہمیں تم سے بہت محبت ہے لیکن تمہاری یہ جو باتیں ہیں یہ باتیں ہمارے دل میں ایک تکلیف کا تلاطم بر پا کر رہی ہیں ہم چاہتے ہیں کہ تم سے پیار کریں اور محبت کریں مگر تم نہیں کرنے دیتے اور خلیفہ وقت کا ارشاد روک بن گیا ہے ہماری راہ میں ۔ اس لئے نہ سمجھنا کہ ہم تم سے دور ہٹ گئے ہیں تم دور ہٹ رہے ہو تم واپس آؤ اپنے رستوں پر جو مقام ہے اس کو حاصل کرو۔ ان خطوط نے بعض گھر کے افراد پر بہت ہی گہرا اور نیک اثر ڈالا ، ان کی کیفیت ہی بالکل بدل گئی۔ چنانچہ بظاہر دونوں جگہ ادعا ایک ہی تھا کہ ہم نصیحت کر رہے ہیں لیکن ایک نصیحت بغض کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے، ایک نصیحت محبت کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے، نصیحت وہی ہے جو دین کہلانے کی مستحق ہے جو آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے مطابق دین کہلانے کی مستحق ہے جو محبت کی پیداوار ہو ۔ دشمنی اور عناد کی پیداوار کبھی نصیحت نہیں کہلا سکتی اور ہر کہنے والا اگر اپنے دل کو ٹولے تو اسے محسوس ہو سکتا ہے معلوم ہو سکتا ہے، کہ یہ نصیحت تھی یا بغض کا اظہار تھا اور یہ بغض کا اظہار پھر کسی مقام کو بھی نہیں چھوڑتا۔ کبھی امارت کو حقوق دیئے جاتے ہیں یہ کہ کر کہ امیر کا حق ہے اور صرف خلیفہ کا حق نہیں ، کبھی اسی آواز سے خلیفہ کے حق بھی چھینے جاتے ہیں گویا کہ ایسے لوگ اپنے دل میں کس گھولتے رہتے ہیں جس کروٹ سے بھی انکے بغض کو تسکین ہو وہ اس کو دیتے چلے جاتے ہیں اور اس کا نام رکھا ہوتا ہے صداقت اظہار صداقت ، سچائی کا بیان ، نصیحت ۔ صلى الله عروسه نصیحت ایک ایسا لفظ ہے جو سب سے زیادہ خطر ناک شکل اختیار کر سکتا ہے اگر آپ اس کو پہچانتے نہ ہوں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے آنحضرت علی نے لفظ نصیحت استعمال کر کے اس کے حقیقی مضمون کی طرف توجہ دلا دی اور بڑی واضح پہچان ہے ہرگز دھوکہ کھانے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ اگر آپ کی نصیحت جس کو ہم اردو میں نصیحت کہتے ہیں عربی نصیحت کے ساتھ ہم آہنگ ہے یعنی محبت کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے تو مبارک ہو آپ کو کہ آپ کو جنت کی طرف لے کر جائے گی اور آپ دین میں ترقی کریں گے اور یہی نصیحت آپ کا دین بن جائے گی لیکن اگر اس کی پیدا ہونے کی جگہ ، اس کا محرک بغض ہے خواہ وہ مالدار لوگوں سے ہو یا دیندار لوگوں سے ہو خواہ وہ امیر سے ہو خواہ وہ خلیفہ سے ہو، خواہ وہ کسی خاندان سے ہو اگر بغض کے نتیجے میں کوئی نصیحت پیدا ہوئی ہے تو اس کو وہ