خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 762 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 762

خطبات طاہر جلد ۵ 762 خطبه جمعه ۱۴ نومبر ۱۹۸۶ء سمجھانے کے لئے تمہاری بہتری کے لئے بتا رہا ہوں کہ الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبي (الشوری (۲۳) کا سلوک کرو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں بھی ہم نے دیکھا بکثرت وہ چھوٹے چھوٹے بچوں سے بھی پیار کرتے تھے لیکن ان کو وہ پیر نہیں بنایا کرتے تھے جو غلط کام کرتے ہیں تو ان کو نصیحت کیا کرتے تھے۔ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ وہ غلطی کریں اور ان کو سمجھایا نہ ہو انہوں نے اور تکلیف محسوس کرتے تھے۔ لیکن طعن آمیزی نہیں کرتے تھے۔ اس سے پتہ چلا کہ ان کی نصیحت محبت کے نتیجہ میں تھی حسد کے نتیجہ میں نہیں تھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بھی بار ہا مختلف وقتوں میں خطبے میں اس مضمون پر مختلف رنگ میں روشنی ڈالی ۔ بعض دفعہ جب دیکھا کہ بعض بچوں کی عادتیں بگڑ گئی ہیں لوگوں نے ان کو صاحبزادہ صاحب، صاحبزادہ صاحب کہہ کہہ کے ان کو بالکل بے وقوف بنا دیا ہے ، وہ سمجھتے ہیں عزت ہمارا ذاتی حق بن گئی ہے۔ اس کے نتیجہ میں وہ دین کی ذمہ داریاں ادا نہیں کر رہے تو بڑے سخت خطبے بھی دیئے اور بڑے جلالی خطبے دیئے یوں معلوم ہوتا تھا جیسے حکم دے رہے ہیں کہ ان کے بچیئے ادھیڑ کے رکھ دو ان لوگوں کے لیکن دوسری دفعہ ایسے خطبے بھی دیئے جن سے پتہ لگتا تھا کہ احترام اور محبت اور ادب یہ اپنی جگہ ایک مقام رکھتے ہیں ان چیزوں کو نہیں چھوڑ نا چاہئے ۔ایسے خطبوں کے بعد میں چونکہ خود تجربہ سے گزرا ہوں میں آپ کو بتاتا ہوں کہ کس قسم کے رد عمل دیکھے گئے ۔ بعض لوگ ایسے تھے جو ہمیشہ جلا کرتے تھے ان کو حسد ہوتا تھا کہ ان کی عزت کیوں کی جاتی ہے انہوں نے پھر نیک اور بد کی بھی تمیز اڑا دی۔ تمیز اڑا دی۔ ہر ایک کے ساتھ انہوں نے ظلم کا سلوک شروع کر دیا، طعن کا سلوک شروع کر دیا اور جب انہیں کوئی سمجھاتا تھا تو کہتے دیکھو حضرت صاحب نے خطبہ دیا ہے تم کون ہوتے ہو ؟ ان کے ساتھ یہی سلوک ہونا چاہئے ۔ چنانچہ حسد پھر یزیدیت کو جنم دے دیتا ہے اور کچھ لوگ ایسے تھے انہوں نے فرق کیا ہے۔ جن کے متعلق جانتے تھے کہ وہ مخلص ہیں دین سے تعلق رکھنے والے ہیں ان کو اپنی شوق نہیں ہے عزت کروانے کا ان کے ساتھ انہوں نے اسی طرح محبت کا تعلق جاری رکھا اور جن کے متعلق نشاندہی کی گئی تھی اس سے بے تعلق ہو گئے لیکن نفرت کے نتیجہ میں نہیں ، اس بے تعلقی میں بھی دکھ محسوس کرنے لگ گئے ۔