خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 758 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 758

خطبات طاہر جلد ۵ 758 خطبه جمعه ۱۴ نومبر ۱۹۸۶ء صلى الله نہیں سکتا ہے۔ پس حسد آپ پیچھے ہٹ جاتا ہے اور نصیحت کے نام پر آگ اگلنے لگتا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ کلام الہی میں اور کلام محمد ﷺ میں رخنہ ڈالنے کی خدا اجازت ہی نہیں دیتا ایسا کامل کلام ہے کہ جو اپنے اندر تمام دفاعی نظام رکھتا ہے ۔ انگریزی میں لفظ Admonishment اگر نصیحت کا ترجمہ کیا جائے تو بالکل ایک کھوکھلا اور بے معنی ترجمہ ہے یہ کیونکہ لفظ نصیحت ایک ایسا حیرت انگیز لفظ ہے کہ اسے اختیار کرنا ہی حضرت رسول اکرم ﷺ کی صداقت اور فصاحت و بلاغت پر دلالت کرتا ہے۔ نصیحت کا بنیادی معنی کسی کو پر چار کرنا نہیں ہے بلکہ نصیحت کا بنیادی معنی اپنی محبت کو خالص کرنا ہے اور اسی لئے لفظ نصیحہ مختلف شکلوں میں عربی میں پایا جاتا ہے۔ خالص شہد بھی ناصح شہد کہتے ہیں اور خالص مکھن کو اور خالص گھی کو بھی ناصح گھی اور ناصح مکھن قرار دیں گے۔ قرآن کریم بھی غریب مومن جو کسی طرح قربانیوں میں حصہ نہیں لے سکتے نہ جسمانی نہ مالی صلى الله ان کے متعلق فرماتا ہے إِذَا نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُوْلِه (التوبہ: (۹) ان پر کوئی حرف نہیں ہے ان کو کوئی فکر کی ضرورت نہیں ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ نصیحت کا معاملہ کریں۔ اب نصح له کا عام ترجمہ جو سمجھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کو نصیحت کریں۔ اب کون ہوتا ہے اللہ اور اس کا رسول کو نصیحت کرنے والا وہاں یہی معنی ہے کہ اگر وہ صرف اتنا کریں کہ خدا تعالیٰ سے اپنی محبت کو خالص کر لیں اور محمد مصطفی علی سے اپنی محبت کو خالص کر لیں تو اور کچھ بھی نہ کر سکیں یہی ان کی بخشش کے لئے کافی ہو جائیگا ان کو کسی فکر کی ضرورت نہیں ۔ نَصَحُوا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ کا یہ مطلب ہے۔ پس نصیحت کا معنی ہے خالص محبت اور جب خالص ہو تو اس کے طبعی نتیجے کے طور پر غلط بات سے روکنے کی تمنا پیدا ہوتی ہے۔ ہر وہ چیز جو نقصان پہنچانے والی اپنے محبوب کو دل چاہتا ہے کہ اس کو ہٹا دیں ۔ پس عربی میں لفظ نصیحت کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ کلام جو کسی کو اس کی خیر خواہی کی خاطر کہا جائے اور جو بنیادی طور پر شدید اور خالص محبت کے نتیجہ میں پیدا ہو۔ اب ہر انسان اپنے دل میں ٹٹول کر دیکھ سکتا ہے کہ میں نے جو بات کی تھی وہ عربی کے لحاظ سے حضرت محمد مصطفی ﷺ کے قول کے لحاظ سے نصیحت کہلانے کی مستحق بھی ہے کہ نہیں ۔ اگر وہ جذبہ محبت سے مجبور ہو کر کہی گئی ہے تو لازماً وہ نصیحت ہے وہ دین ہے اس کا ۔ اس میں کوئی شک نہیں ، اس کا حق ہے اس دین کو زندہ رکھنے کا اس کی حفاظت کرنے کا لیکن اگر اس کے پیچھے جذبہ حسد ہے کوئی دشمنی کوئی عداوت ، کوئی جلن تو اس کا نام