خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 757
خطبات طاہر جلد ۵ 757 خطبه جمعه ۱۴ نومبر ۱۹۸۶ء طرح یہ آیات فرق نمایاں کر دیتی ہیں مگر دونوں جگہ بنیادی طور پر جس خوفناک مہلک بیماری سے متنبہ کیا گیا ہے وہ حسد تھی ۔ حسد نبوت کے انکار پر منتج ہوتا ہے اور حسد کے نتیجہ میں نبوت کے مقاصد میں دخل اندازی کی جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کے کاموں کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے اور حسد ہی کے نتیجہ میں دہریت کی بہت ہی خوفناک عالمگیر مہلک تحریکات چلتی ہیں اور حسد ہی کے نتیجہ میں انسان کا اقتصادی نظام بھی ختم ہو جاتا ہے اور اس کا معاشی نظام بھی تباہ ہو جاتا ہے، اس کی گھریلو زندگی بھی تباہ ہو جاتی ہے ۔ تو ایک ایسی بیماری ہے جو بہت ہی وسیع الاثر ہے ورنہ قرآن کریم آخری بات جاتے جاتے یہ نہ کہتا کہ حسد کے خلاف ہم تمہیں متنبہ کر رہے ہیں ۔ یہ اللہ سے دعا مانگو کہ وہ ہمیں حاسد سے بچائے ۔ اہم باتیں انسان جس طرح دنیا میں جاتی دفعہ دہراتا ہے یاد دہانی کراتا ہے یا سفر پہ جانے والا ہو باپ تو جاتے جاتے وہ ساری نصیحتیں دہرا نہیں سکتا ، مرکزی نکتے بیان کر دیتا ہے کہ دیکھو جو میں نے تمہیں کہا تھا یہ بات خاص طور خیال رکھنا ۔ تو قرآن کریم ختم کے بالکل قریب پہنچ گیا ہے، آخری چند سطریں رہ گئیں اور اس وقت آپ کو متنبہ کرتا ہے کہ ہاں یا درکھنا ، دعائیں کرنا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حاسد کے حسد سے بچائے۔ تو اگر یہ اتنی خوفناک چیز ہے اور اگر یہ ہمارے مقابل پر سب سے زیادہ ظلم پھیلانے والی چیز حسد ہے، تو کیا ہمارے لئے ضروری نہیں کہ ہم اپنے اندر اس کو ہمیشہ تلاش کرتے رہیں کہ کہیں مخفی طور پر یہ ہمارے اندر داخل نہیں ہو چکی ۔ کیونکہ جیسا کہ میں نبیبیان کیا تھا حسد مخفی رہتا ہے۔ حسد کرنے والے کو پتہ نہیں لگتا ہے کہ میں کیوں کر رہا ہوں ۔ بڑی بڑی نصیحتیں کرنے والے آپ دیکھیں گے جو خالصہ جل کر آگ بگولہ ہو کر نصیحتیں کر رہے ہوتے ہیں اور سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ بڑا نیکی کا کام کر رہے ہیں اور جو کوئی ان کو کہتا ہے کہ یہ تخریبی نصیحت ہے تو وہ اس سے لڑ پڑتے ہیں اور کہتے ہیں تم کون ہوتے ہو ہمیں تخریبی کہنے والے تمہیں بات سننے کا حوصلہ ہی کوئی نہیں ۔ ہم تو نصیحت کرتے ہیں اور تم اسے تخریبی تنقید کہہ رہے ہو حالانکہ اگر وہ دل میں ٹولتے تو ضرور پہچان جاتے کہ نصیحت کرنے کا آغاز جذبہ حسد سے ہوا تھا کسی محبت کے نتیجہ میں نہیں ہوا تھا۔ بعض دفعہ جب ایسے صلى لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے الـــــديـــــن صلى الله عروسه یث نمبر:۸۲) تم کون ہوتے ہو آ نحضرت ﷺ کی نصیحت کے النصيحة (بخارى كتاب الایمان حدیث نمبر : ۸۲) رستے میں حائل ہونے والے ہمارا کام ہے ہم نصیحت کریں گے اور کوئی ہمیں اس نصیحت سے روک