خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 714 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 714

خطبات طاہر جلد ۵ 714 خطبه جمعه ۲۴ اکتوبر ۱۹۸۶ء اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین ۔ یہ باتیں بظاہر ایسی ہیں جو ہر آدمی سن کر قبول کر سکتا ہے۔ ہر احمدی کے لئے ان باتوں کو سن کر ان پر عمل کرنا بظاہر مشکل نہیں ہے ، معمولی بات دکھائی دیتی ہے مگر میں آپ کو متنبہ کرتا ہوں کہ یہ بہت محنت کا کام ہے۔ صبر کا مضمون اس طرف متوجہ کر رہا ہے کہ میرے ایک خطبے سے یہ مقصد حاصل نہیں ہو گا میرے دس خطبوں سے بھی یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ ہزار ہا نصیحت کرنے والے آپ پر آ کر نصیحت کا رنگ چڑھاتے چلے جائیں تب بھی یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے ہر دل کے اندر ایک غیر معمولی تبدیلی کی ضرورت ہوا کرتی ہے اور یہ توفیق دل کی سچائی سے نصیب ہوتی ہے کسی بیرونی سچائی کو سننے سے نصیب نہیں ہوا کرتی ، اس بات کو یاد رکھیں ۔ کئی سال ہو گئے مجھے عائلی زندگی کے امن کے اوپر مختلف رنگ میں روشنی ڈالتے ہوئے ۔ بعض جگہ نیک اثر بھی پیدا ہوئے ہیں لیکن آج بھی میں کم سے کم خدا کی قسم کھا کر دنیا میں یہ اعلان نہیں نا کہ احمدی گھر آج جنت کا نمونہ بن چکے ہیں۔ میں کسی ایک ملک میں بھی یہ اعلان نہیں کہ نہ پاکستان میں کر سکتا ہوں ، نہ ہندوستان میں کر سکتا ہوں ، نہ انگلستان میں کر سکتا ہوں نہ چین یا جاپان یا جرمنی میں کر سکتا ہوں کیونکہ روزانہ مجھے کثرت کے ساتھ ایسے خطوط موصول ہوتے ہیں جن سے پتہ ا چلتا ہے کہ یا مرد عورت کے مظالم کا شکار ہے۔ یا عورت مرد کے مظالم کا شکار ہے ، یا مرد کسی دوسرے مرد کے مظالم کا شکار ہے یا عورت کسی دوسری عورت کے مظالم کا شکار ہے۔ پس منہ سے کہہ دینا کہ ہاں عائلی امن ہمیں نصیب ہوگا تو دنیا میں ہم امن پیدا کر دیں گے۔ ہم دنیا پر اسلام کی برتری ثابت کر دیں گے آسان کام نہیں ہے لیکن جتنی محنت یہ کام چاہتا ہے اس محنت کا نقشہ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ میں صبر کے حصے نے ہمارے سامنے کھول دیا ہے۔ بڑے صبر کی ضرورت ہے مجھے بھی صبر کی ضرورت ہے کہ میں جو نصیحت کروں وہ کرتا جاؤں اور پچھکوں اور نہ مایوس ہوں اور آپ کو بھی صبر کی ضرورت ہے کہ اپنی کوششوں میں صبر اختیار کریں ہر وقت اپنا جائزہ لیتے رہیں اور اگر آپ کے گھروں میں بدامنی کے آثار پائے جاتے ہیں تو چین سے نہ بیٹھیں جب تک اس بدامنی کے آثار کو زائل نہ کرلیں، ان کو ملیا میٹ نہ کر دیں۔ آپ نے اسلام کی وہ جنت جو اسلام دنیا میں بنانے کا دعویٰ کرتا ہے پہلے اپنے گھروں میں بنا کر دکھانی ہے۔ اگر