خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 713 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 713

خطبات طاہر جلد ۵ 713 خطبه جمعه ۲۴ اکتوبر ۱۹۸۶ء جرمنی میں بسنے والے احمدی ہوں یا یورپ کے دیگر جماعتوں کے بسنے والے احمدی ہوں جو آج اس خالصہ دینی اجتماع کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں یہی میرا ان کے نام پیغام ہے کہ آج آپ امن کے محافظ کے طور پر دنیا میں قائم کئے گئے ہیں۔ آج اسلام کے نمائندہ اور سفراء کے طور پر آپ دنیا میں نکلے ہیں جہاں کو ب جہاں کہیں سے بھی آپ bassider ( ائیک کمبیسیڈر اور سفراء )Embassider آئیں ، جہاں کہیں بھی آپ جانے والے ہیں ، آپ کی یہ حیثیت اولین حیثیت ہونی چاہئے کہ آپ اسلام کے سفیر ہیں یعنی امن کے سفیر ہیں اور اس امن کے سفیر ہیں جو واقعاتی طور پر آپ نے پالیا ہے آپ کی زندگیوں میں راسخ ہو چکا ہے ۔ اس امن کی تلاش کرتے رہیں جب تک وہ امن آپ کو نصیب نہ ہو اور دنیا کو موقع دیں کہ وہ امن آپ سے حاصل کرے۔ اس حیثیت میں زندہ رہیں گے تو آپ یقیناً ایک فاتح کی حیثیت میں زندہ رہیں گے اور قرآن کریم کے اسلوب سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جب بھی خدا ایسے استثناء بناتا ہے إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ تو مراد یہ نہیں ہوتی ہے کہ یہ تھوڑے لوگ ہمیشہ تھوڑے رہیں گے ۔ مراد یہ ہوتی ہے کہ یہ تھوڑے ہونے کے باوجود دنیا میں غالب آنے والے ہیں، ایک ایسا زمانہ بھی آنے والا ہے کہ یہ غالب آجائیں گے اور گھاٹے والا انسان دنیا کی صف سے پیچھے دھکیل دیا جائے گا ۔ گویا کہ ایک ڈرامہ میں ایک کردار نے اپنے پارٹ ادا کیا، اپنا کھیل کھیلا اور غائب ہو گیا اور ایک نیا کردارا بھرا ۔ تو الَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصلحت ایک نئے کردار کو دکھانے کا دروازہ کھول رہا ہے۔ ایک نئے کردار سے پردہ اٹھانے والی آیت ہے اور وہ آپ کا کردار ہے۔ اے احمدی نو جوانو! اے مستقبل کے محافظو! جو آئندہ دنیا میں اسلام کے فتح مند ہونے کے لئے آج خدا تعالیٰ کی طرف سے اس بات کے لئے مقرر کئے گئے ہو۔ آج تم اسلام کو سیکھوتا کہ آئندہ آنے والی نسلوں کو تم اسلام سکھا سکو۔ آج اسلام کے امن کو اپنی سوسائٹیوں میں راسخ کر دو تا کہ آئندہ آنے والی سوسائیٹیوں کے امن کی ضمانت دے سکو تم مراد ہو اس آیت کے اگر تم اس مقصد میں کامیاب ہو گئے تو پھر دنیا کا مستقبل یقیناً پر امن ہوگا اور اگر تم اس مقصد میں ناکام ہو گئے تو بالآخر اسلام تو غالب آئے گا مگر تمہارے ذریعہ نہیں ۔ ان لوگوں کے ذریعہ جو اپنے اس دعوئی میں سچے ہوں گے۔ وہ اسلام پر ایمان بھی لائیں گے اور اسلام پر عمل کر کے بھی دکھائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں