خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 699
خطبات طاہر جلد ۵ 699 خطبه جمعه ۲۴ اکتوبر ۱۹۸۶ء کہہ سکتے ہیں کہ انسان یہاں بحیثیت نوع ناکام ہو چکا ہے اور گھاٹے کے سوا اس کے مقدر میں کچھ نہیں ۔ یہ فقرہ، یہ بیان اس وقت اس وقت استعمال ہو سکتا ہے جب بہت بڑی بھاری اکثریت پر یہ اطلاق پاتا ہو۔ ورنہ اگر اکثر لوگ اب ایمان انے والے اور نیک اعمال کرنے والے ہوں تو اس و تو اس وقت یہ فقرہ بولا ہی نہیں جاسکتا کہ یقیناً انسان بحیثیت مجموعی یا بحیثیت نوع گھاٹے میں جا چکا ہے ۔ اس لئے پہلی Statement اتنی قوی ہے ، اتنی پُر اثر ہے پہلا بیان اتنا قوی اور پُر اثر ہے اور اتنی وسعت رکھتا ہے کہ اس کے بعد إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا کا ترجمہ اس کے سوا کیا ہی نہیں جا سکتا کہ سوائے ان چند لوگوں کے جو ایمان لے آئیں اور نیک اعمال کریں۔ ایک تو اس کے آغاز میں دلیل اس بات کی ہے کہ وہ چند لوگ ہوں گے اور گنتی کے چند لوگ اور ایک دلیل اس کے آخر پر بھی رکھی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ۔ صبر کا مضمون بتاتا ہے کہ بہت تھوڑے لوگ ہوں گے اور مظلوم لوگ ہوں گے ۔ صبر کی ضرورت تو فاتح اور غالب کو نہیں ہوا کرتی ۔ صبر کا مضمون خود بتاتا ہے کہ ان لوگوں کی حالت نہ صرف یہ کہ تھوڑے ہوں گے بلکہ مظلومیت کے دن گزار رہے ہوں گے ۔ کوئی ان کو پوچھے گا نہیں ، کوئی ان کو وقعت نہیں دے گا اور باتیں بھی ان کی رد کی جائیں گی عموماً ، لوگ ایک کان سے سنیں گے اور دوسرے کان سے نکال رہے ہوں گے لیکن باوجود اس کے کہ اتنی معمولی حیثیت ان کی ہوگی اور بظاہر سارا انسان ان کے مقابل پر کھڑا ہوگا پھر بھی وہ اپنی نصیحت سے باز آنے والے نہیں ہوں گے، اپنے کام سے پیچھے ہٹنے والے یا مایوس ہونے والے نہیں ہوں گے بلکہ صبر کے ساتھ وہ نصیحت کرتے چلے جائیں گے۔ ان کی باتوں کا انکار کیا جائے گا ، اس کا دکھ محسوس کریں گے، اس پیغام حق کے نتیجہ میں جو تکلیفیں دی جائیں گی وہ بھی برداشت کرتے چلے جائیں گے اور یہ بھی دیکھیں گے کہ انسان بحیثیت کلی ایک نوع کے اعتبار سے بظاہر اسلام کو رد کر چکا ہے اور بظاہر اس کی کوئی امید نظر نہیں آتی کہ وہ اپنے فیصلہ کو بدلے اور اسلام کو قبول کرلے۔ بظاہر کلیہ مایوسی کا سامنا ہوگا اس کے باوجود وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ پھر بھی وہ کامل صبر کے ساتھ وفا کے ساتھ اپنے پیغام پر قائم رہیں گے اور پیغام دیتے چلے جائیں گے۔ وہ آیت جس کی میں نے پہلے تلاوت کی تھی وہاں جب خدا تعالیٰ نے یہ فرمایا