خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 698
خطبات طاہر جلد ۵ 698 خطبه جمعه ۲۴ اکتوبر ۱۹۸۶ء کے بعد کا نقصان تو ہوگا ہی لیکن اسی دنیا میں اپنے جیتے جی اپنی آنکھوں سے ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اسلام کو چھوڑ نے والا ہر دین اپنے متبعین کو چھوڑ دے گا یعنی اپنے کئے ہوئے وعدے ان کے ساتھ پورے نہیں کرے گا اور سارے اہل دنیا دوسرے دینوں کو اختیار کر کے ان پر عمل کرتے کرتے تھک جائیں گے اور ایک ایسے مقام پہنچے گا جہاں انسان بحیثیت مجموعی اپنے گھاٹے کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ رہا ہوگا اور تسلیم کرے گا کہ میں گھاٹا پانے والا ہوں ۔ اس وقت انسان پر جو حالات گزر رہے ہیں قرآن کریم کی اس پیشگوئی کے عین مطابق گزر رہے ہیں۔ چنانچہ قرآن کریم نے فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَسِرِینَ کی خود جو تشریح فرمادی دوسری جگہ اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ واقعہ صرف آخرت میں ہونے والا نہیں بلکہ اس دنیا میں بھی ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے جہاں انسان اپنے گھاٹے کو خود دیکھ لے گا۔ چنانچہ دوسری سورت میں قرآن کریم نے اس مضمون کو اس طرح کھول دیا : وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصُّلِحَتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ (العصر : ٢٢) کہ زمانہ گواہ ہے اب تو کسی اور گواہی کی ضرورت نہیں رہی ، پورا زمانہ گواہ بن چکا ہے إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْر کہ انسان یقیناً گھاٹے میں جا رہا ہے۔ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصلحت سوائے ان چند لوگوں کے جو ایمان لے آئے اور نیک اعمال کر رہے ہیں ۔ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وہ حق کے ساتھ نصیحت کرتے چلے جاتے ہیں اور صبر کے ساتھ نصیحت کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں میں نے سوائے ان چند لوگوں کے کا ترجمہ کیا ہے ۔ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا میں تو چند لوگوں کا ذکر نہیں ۔ ذکر صرف اتنا ہے کہ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لے آئے ۔ تو یہ چند کا ترجمہ میں نے کیسے کیا؟ - در حقیقت دو وجوہات ہیں جس کے نتیجہ میں انسان یہاں چند لوگوں کا ترجمہ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اول یہ کہ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ ایک ایسی Statement ہے، ایک ایسا بیان ہے جو تقریباً ساری انسانیت کو لپیٹ رہا ہے ۔ انسان بحیثیت مجموعی گھاٹے میں چلا جائے گا ۔ یا ہم یہ