خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 670
خطبات طاہر جلد ۵ 670 خطبه جمعه ۰ ۱ اکتوبر ۱۹۸۶ء نہیں تھا کہ کوئی جواب دیا جاتا ، سننے والے سارے ہنس پڑے۔ تو وہاں اس کثرت کے ساتھ ان علماء نے خود اپنی شکست کے انتظام کئے ہیں اور ان کا جواب دینے کی مزید اب ضرورت ہی کوئی نہیں رہی۔ جہاں تک غیر احمدی سوسائٹی کا تعلق ہے انگلستان کی غیر احمدی سوسائٹی کے مقابل پر کینیڈا کی غیر احمدی سوسائٹی کا رد عمل بھی بہت ہی زیادہ شریفانہ اور صحیح خطوط پر ہے۔ چنانچہ وہاں کے بہت سے احمدی دوستوں نے حالات سنائے ان سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ ان کی تقریروں میں شامل ہوئے ہیں ، نہایت متنفر ہو کر واپس آئے ہیں بعضوں نے کھڑے ہو کر و ہیں احتجاج کئے کہ تم کیا باتیں کر رہے ہو کیسی بے ہودہ لغو باتیں کرتے ہو! وہ لوگ دلیلیں دیتے ہیں ، قرآن اور حدیث پیش کرتے ہیں تمہیں گالیوں کے سوا آتا ہی کچھ نہیں اور دوسرے جیسا کہ میں ہا ہے بعض تو ٹیلیویژن وغیرہ کے پروگرام کے بعد آئے۔ لیکن علاوہ ازیں بھی جہاں بھی میں گیا ہوں وہاں کی مجالس میں غیر احمدی پاکستانی دوستوں نے نہ صرف شمولیت کی بلکہ غیر معمولی تعلق کا اظہار کیا اور آخری سفر میں وینکوور (Vancouver) میں تو ساتھ امریکہ کے شہروں وینکوور سے بھی بعض غیر احمدی دوست تشریف لائے ہوئے تھے۔ وہاں وینکور میں بسنے والے جو بھی پاکستانی سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے ہیں ان میں معزز ترین وہ سارے تشریف لائے ہوئے تھے اور مجلس کے بعد اس قدر محبت کا انہوں نے اظہار کیا کہ میں حیرت سے دیکھ رہا تھا کہ مولوی یہ کر کے گئے ہیں، یہ اثر ان کے اوپر چھوڑ کے گئے ہیں ۔ بجائے متنفر ہونے کے اور زیادہ قریب آئے ہوئے تھے۔ اور ایک دوست جو امریکہ سے تشریف لائے ہوئے تھے ان کو دیکھ کر ان کی جو طر ز بھی ان پیار اور محبت کی اس کو دیکھ کر میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ آج ہی یہ بیعت کر لیں اور اتفاق ایسا ہوا کہ دو جیئن دوست ایک ان : وست ایک ان میں سے کویتی ہیں اور ایک مسلمان نجمین تھے، ان دونوں نے فیصلہ کیا کہ آج و ہم مغرب کی نماز کے وقت بیعت کریں گے ۔ چنانچہ جب انہوں نے بیعت شروع کی پھر میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ وہ دوست کہاں گئے ، ان کے چہرے پر بڑی سعادت اور شرافت تھی : اور ان میں بڑا محبت کا طبعی جذ بہ پایا جاتا تھا وہ بھی ساتھ اتھ شامل ہو جاتے تو کتنا اچھا ہوتا اور جب میں نے سراٹھایا تو تیسرے آدمی وہ تھے جو ہاتھ رکھ کے بیعت کر رہے تھے اور بیعت ختم ہوتے ہی