خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 669
خطبات طاہر جلد ۵ 669 خطبه جمعه ۰ ۱ اکتوبر ۱۹۸۶ء تھے ان کے پریس نے ہی بتا دیا تھا سارے ملک کو تو ایسے متنفر ہوئے وہ مولویت سے کہ جماعت احمد یہ کے لحاظ سے یہ خدا کے فضل سے ایک بہت ہی شاندار کامیابی ہے۔ دوسرے اس سے پہلے ان کو اگر شک تھا بھی کہ جماعت احمدیہ پر پاکستان میں مظالم ہو رہے ہیں تو ان مولویوں نے وہ رہا سہا شک دور کر دیا ، ہر کسر کو نکال دیا سب وہم دور کر دیئے ہیں ان کے۔ ان کا یہ تاثر ہے، بعض پرائیویٹ ملاقاتوں میں انہوں نے بتایا کہ جو یہاں آکر یہ حرکتیں کر رہے ہیں وہاں کیا کرتے ہوں گے ۔ ایک طبعی نتیجہ ہے جو ان کی عقلوں نے نکالا اور یہ درست بات ہے۔ چنانچہ اس پہلو سے بھی کینیڈین کا رد عمل دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت بہت ہی زیادہ نمایاں تھا۔ انگلستان میں بھی علماء آتے ہیں اور بہت زیادہ یہاں آکر گند بولتے ہیں اور شدید گالیاں دیتے ہیں ، فساد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جو بھی ان کے اندر طاقت ہے اس کو استعمال کرتے ہیں تا کہ جماعت احمد یہ کو کسی طرح نقصان پہنچ جائے لیکن انگریزوں میں ایسا نمایاں رد عمل نہیں دیکھایا احمدیہ یہ ہمیشہ سے ہی ان معاملات میں پڑے ہوئے ہیں اور ان کے اوپر کوئی ان باتوں کا اثر ہی نہیں پڑتا، Conservative قوم ہے یا بیچ میں سے خوش ہوتے ہوں گے کہ مسلمان لڑ رہے ہیں آپس میں ہم Enjoy کرتے ہیں ہمیں کیا اس سے لیکن جو طبعی رد عمل ہونا چاہئے وہ یہاں ظاہر نہیں ہوا۔ لیکن کینیڈا میں حالانکہ جماعت احمدیہ کی تعداد یہاں کے مقابل پر بہت تھوڑی ہے لیکن جہاں بھی میں گیا ہوں وہاں پریس نے بھی ، ریڈیو نے بھی ، ٹیلیویژن نے بھی یہ سوال اٹھایا ہے اور خوب اچھی طرح واقف تھے۔ ایک پر یس کا نفرنس میں ایک سردار صاحب بھی تشریف لائے ہوئے تھے انہوں نے آخر پر پریس کہا کہ سوال تو نہیں بنتا لیکن ایک بات پر میرے دل میں تعجب پیدا ہو رہا ہے اور بڑی حیرت ہو رہی ہے مجھے ایک بات پر ۔ میں نے کہا کیا بات ہے؟ کہنے لگے بات یہ ہے کہ ہندو بڑی کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح سکھ بھی ان کے کھاتہ میں شمار ہو جائیں اور سکھ کوشش کرتے ہیں کہ دوسرے جتنے بھی آسکتے ہیں ان کے کھاتہ میں شمار ہو جائیں اور عیسائی بڑی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی تعداد بڑھے، یہ پاکستان کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اپنا کھاتہ کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں سارا زور اس بات پر لگا رہے ہیں کہ مسلمانوں کی تعداد کم ہو زیادہ نہ ہو ۔ کہنے لگے یہ مجھے سمجھ میں نہیں آرہی ۔ ان معنوں میں یہ سوال تو