خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 507
خطبات طاہر جلد ۵ 507 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۶ء ہیں جوا صلى الله جو آنحضرت سے گستاخی سے پیش آتے ہیں اور اس کے باوجود ان کے لئے کوئی دنیا کی سزا علی سه ایسی تجویز نہ فرمائی جس کا جاری کرنا انسان کے اختیار میں ہو۔ بلکہ دوبارہ اس عہد کو دہرایا کہ میں ضامن ہوں ان کا اور میں ان کے لئے غیرت رکھتا ہوں ، میں ان کے لئے سزا تجویز کروں گا اور میں ہی اس سزا پر عمل کرواؤں گا۔ عروسه فرمایا ایسے لوگ بھی تھے بدبخت جو حضرت رسول کریم ﷺ کے متعلق عام پرو پیگنڈا کرتے تھے۔ هُوَ اذن کہ یہ تو ہر وقت لوگوں کی باتیں سنتا رہتا ہے اور کان کا کچا ہے۔ عربی میں محاورہ ہے اذن جس کا مطلب ہے کان ہے، جسم کان ہے اردو میں ہم کہتے ہیں کان کا کچا ہے۔ تو رسول کریم ع کے متعلق منافقین یہ کہتے تھے کہ ایسا کان کا کچا ہے نعوذ باللہ من ذالک کہ جو چغلی کھائے اس کی بات سن کر دوسرے پر ناراض ہو جاتا ہے۔ ہمارا قصور ہو یا نہ ہو ہمارے خلاف یک طرفہ باتیں سن کر بعض فیصلے صادر فرما دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ہاں کان تو ہے لیکن أذُنَ خَيْرٍ لَّكُمْ تمہارے لئے بدی کا کان نہیں بھلائی کا کان ہے۔ جب اچھی باتیں سنتا ہے تو بڑی محبت سے جھک کر سنتا ہے اور بہت پیار سے ان کو قبول فرماتا ہے لیکن جب بدی کی باتیں سنتا ہے تو اس کان میں یہ فطرت ہی نہیں ہے کہ ان کو قبول کرلے ۔ صرف اذن خیر ہے اُذن بد نہیں ہے۔ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَ يُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ اللہ پر ایمان لاتا ہے اور مومنوں کی خاطر ایمان لاتا ہے اور مومنوں کی باتوں پر ایمان لاتا ہے یہاں صلہ بدل کر مضمون بدل دیا ۔ ۔ فرمایا يُؤْمِنُ بِالله ایمان باللہ کا مطلب ہے اللہ کی ذات پر ایمان لاتا ہے وَ يُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ ۔ ل نے یہ مضمون پیدا کیا کہ ایمان لاتا ہے مومنوں کی خاطر یعنی جو چیزیں مومنوں کی بھلائی کی ہیں ان کو قبول فرمالیتا ہے جو چیزیں تو مومنوں کی برائی کی ہیں ان کو رد فرما دیتا ہے ۔ وَرَحْمَةٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ اور وہ لوگ جو تم میں سے ایمان لائے ہیں ان کے لئے مجسم رحمت ہے۔ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ اور وہ لوگ جو اللہ کے رسول کو دکھ پہنچاتے ہیں ان کے لئے درد ناک عذاب مقرر ہے۔ یہ نہیں فرمایا کہ اٹھو اور ان کو قتل کر دو، اٹھو اور ان کو عمر قید کی سزا دو، اٹھو اور ان کو ذلیل کر دیا ان کے گھروں کو آگ لگا دو۔ پھر فرمایا: