خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 505 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 505

خطبات طاہر جلد ۵ 505 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۶ء ذلیل کروں گا اور آخرت میں بھی ذلیل کروں گا لیکن یہ فیصلہ میں اپنے ہاتھ میں رکھوں گا ، اس پر عمل درآمد میں اپنے ہاتھ میں رکھوں گا، تمہیں کوئی اختیار نہیں ۔ تو جب قرآن اختیار نہیں دیتا تو پھر غیر اللہ کو اختیار کیسے حاصل ہو گیا کہ جو قرآن نے اختیار نہیں دیا وہ اپنے ہاتھ میں لے لیں؟ بعض آیات جو میں نے چینی ہیں ان میں سے ایک کی آج میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا صلى الله عروسه بھیجتے ہیں۔ کہ یقیناً اللہ اور اس کے فرشتے اس نبی یعنی محمد مصطفیٰ ﷺ پر درود يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا تم بھی بکثرت اس پر درود بھیجو اور اس پر سلام بھیجو اور اپنے سارے وجود کو اس کے سپرد کر دو۔ إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ یقیناً وہ لوگ جو اللہ کو دکھ پہنچاتے ہیں وَ رَسُولَہ اور اس کے رسول کو لَعَنَهُمُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ الله ان پر لعنت فرماتا ہے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا اور سزا کے طور پر ان کے لئے رسوا کن عذاب مقرر فرما دیا ہے۔ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَتِ لیکن اللہ تو اپنے پیاروں کی اتنی غیرت رکھنے والا ہے کہ صرف نبیوں کو دکھ پہنچانے والوں کے خلاف اقدام نہیں فرما تا بلکہ تم عام مومنوں کے لئے بھی وہ غیرت رکھتا ہے۔ تم سے بھی ایسا پیار کرتا ہے۔ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنتِ وه لوگ جو مومنوں یعنی عام ایمان لانے والوں اور عام ایمان لانے والیوں کو دکھ پہنچاتے ہیں بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا ایسے دکھ پہنچاتے ہیں جن کا جواز کوئی نہیں کسی ایسے فعل کے نتیجہ میں دکھ نہیں پہنچاتے جو ان سے سرزد ہوا ہو۔ فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَ إِثْمًا مُّبِينًا انہوں نے بہت ہی بڑا بہتان اٹھا لیا اپنے سر پر اور بہت ہی بڑا کھلا کھلا گناہ اٹھالیا یعنی اس کی بھی سزا اللہ تعالیٰ ان کو دے گا۔ اس آیت میں یہ ایک بات زائد فرمائی گئی بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا بغیر اس کے کہ انہوں نے کوئی ایسا کسب کیا ہو جس کے نتیجہ میں ان کو دکھ پہنچایا جانا چاہئے ۔ یہ وہ تفریق ہے جو رسولوں اور مومنوں کے درمیان ہے اور یہ تفریق ہمیشہ قائم رہے گی ۔ جہاں رسولوں کو دکھ پہنچانے کا ذکر ہے یا