خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 33
خطبات طاہر جلد ۵ 33 خطبه جمعه ۱۰ جنوری ۱۹۸۶ء کہ وہ لکھیں تو وہ خشک ہو جاتے اور بھی ویسے لے آتے تب بھی کلام الہی ، کلمات الہی ختم نہیں ہو سکتے تھے۔ تو وہ یہی وسیع تر مضمون ہے کلام کا ۔ ایک کلام ہے جو لفظی ہے اور بیان سے تع سے تعلق رکھتا ہے ایک کلام ہے تقدیری ہے جو خدا کی ایسی قدرت سے تعلق رکھتا ہے جو ہر چیز میں جاری کی گئی ہے اور بار یک در بار یک احکامات اُس کے اندر داخل کئے گئے ہیں جو اپنے وقت پر کھلتے ہیں جیسا کہ میں پہلے معانی بیان کر چکا ہوں اور یہ سب تعلیم الہی کے نتیجے میں ہیں۔ اگر اللہ تعلی یہ تعلیم ہ کر تا فطرت کو تو کسی چیز میں کوئی بھی صفت نہ ہوتی ، ہائیڈ روجن جس طرح Behave کر رہی ہے یا کاربن ڈائی آکسائیڈ جس طرح Behave کرتی ہے یا دوسرے مادے ہیں مختلف ایک دوسرے کے ساتھ مل کر یا الگ الگ بعض صفات دکھاتے ہیں جتنی بھی کائنات میں چیزیں ہیں ان سب کے اندر خواہ وہ زندگی رکھتی ہوں یا زندگی سے عاری ہوں جتنی بھی صفات جلوہ گر ہیں یہ ساری تعلیم کی طرح ہیں اور اس کی تعلیم دی گئی ہے اللہ کی طرف سے اور خود بخود جاری ہونے والی چیز میں نہیں ہیں ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ یہ وہم کر لینا کہ چیزیں خود بخو دا تفاقا ہوئیں ہیں یا اتفاقا جاری ہیں یہ بالکل غلط ہے۔ یہ خدا کی تقدیر کے ساتھ جاری ہیں اور وہ تقدیر ہر وقت کام کر رہی ہے۔ پس ان معنوں میں تقدیر کا ایک اور معنی بھی ہمیں سمجھ آ گیا ۔ قَدْرُ خَيْرِهِ وَ شَرِّہ کا ایک اور مفہوم ہمارے سامنے اُبھر آتا ہے۔ تقدیر عام کیا چیز ہے؟ تقدیر عام یہی تعلیم عام ہے جو ہماری فطرت کے اندر لکھی ہوئی ہے اور جیسے اب سائنس دان پڑھنے کے اہل بھی ہو گئے ہیں اور جب ہم کہتے ہیں کہ فطرت میں لکھی ہوئی ہے تو واقعہ لکھی ہوئی ہے، ایسی چیز نہیں ہے جو فرضی ہے یا محاورہ ہم کہہ رہے ہیں بلکہ انسانی زندگی یا حیوانی زندگی میں تو سائنس دان ان Codes کو بریک (Break) کرنے کے قابل ہو گئے ہیں اور باقاعد ہ Decode کرنے کے بعد وہ پڑھتے ہیں کہ اس میں کیا لکھا ہوا ہے۔ ہر حیوان کے ہر زندگی کے ذرے میں ہی تعلیم چھپی ہوئی موجود ہے خدا تعالی کی طرف سے اور اس تعلیم کے خلاف کوئی کچھ کر نہیں سکتا۔ بیان کی جو تعلیم ہے اُس کے خلاف انسان جا سکتا ہے لیکن یہ جو تعلیم ہے خاموش تعلیم اس کے خلاف انسان جا نہیں سکتا ۔ اسی لئے اس کا نام تقدیر رکھا ، اسی لئے کہتے ہیں کہ تقدیر الہی اٹل ہے۔ تو تقدیر الہی جو عام معنی رکھتی ہے وہ یہی معنی ہیں چونکہ فطرت میں خدا تعالیٰ نے جو چیز میں داخل