خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 32
خطبات طاہر جلد ۵ 32 خطبه جمعه ۱۰ جنوری ۱۹۸۶ء جیسے وہ بنایا گیا اور زمین کو اور جس طرح وہ ہموار کی گئی پھر فرماتا ہے وَنَفْسٍ وَمَا سَونَهَا (الشمس : ۸) اور نفس کو کس طرح خدا نے اسے نہایت ہی عمدہ ترکیب کے ساتھ پیدا کیا اور متوازن کیا اور جب اُسے ٹھیک ٹھاک کیا فَالْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوتھا اس کو الہام کیا ، اُس کے گناہوں کے متعلق بھی ، اُس کی بدیوں کے متعلق بھی گندی چیزیں بھی جن سے اُسے بچنا چاہئے اُن کے متعلق بھی اور اچھی چیزوں سے متعلق بھی اُس کو الہام کیا۔ دوسری جگہ فرماتا ہے : خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَهُ (عبس : ۲۰-۲۱) 6 ہم نے اُس کو پیدا کیا خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ یہاں فَأَلْهَمَهَا کی بجائے قدرة کا لفظ استعمال فرماتا ہے اسکو ہم نے قدرۂ کیا یعنی اُس کا مطلب یہ ہے کہ اُس کے اندر اس کی فطرت میں کچھ چیزیں داخل تھیں ، ثُمَّ السَّبِيلَ يَسَّرَہ پھر اُسے چلا دیا ان راستوں پر جو اُس کے لئے معین کئے گئے تھے۔ پس ان معنوں میں خدا تعالیٰ کے کلام کو ہم دو حصوں میں منقسم کر سکتے ہیں ایک وہ کلام جو لفظوں اور بیان سے تعلق رکھتا ہو اور ایک وہ کلام جو لفظوں اور بیان سے تو تعلق نہیں رکھتا لیکن تمام کا ئنات میں موجود ہے اور یہی وہ کلام کا وسیع معنی ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم فرماتا ہے: قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا ۔ ( الكهف : ١١٠) کہ اگر ہم سمندر خدا تعالیٰ کے کلام کو لکھتے اور ختم ہو جاتے لکھتے لکھتے ، پھر تو دیکھتا کہ خدا تعالیٰ کا کلام ختم نہیں ہوا ، خدا کے کلمات ختم نہیں ہوئے ، وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا خواہ ہم ایسے اور بھی سمندر اُس کو لکھنے کے لئے لے آتے ۔ تو جہاں تک خدا تعالیٰ کے ظاہری کلام لفظی کلام کا تعلق ہے یہ تو اگر ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے سارے کلاموں کو اکٹھا بھی کر لیا جائے اور تمام انسانوں نے آج تک جو کچھ بھی لکھا ہے یا جو کچھ لکھ سکتے ہیں آئندہ ان سب کو اکٹھا کر لیا جائے تو سمندر چھوڑ کے ایک ندی بھی ختم نہیں ہوگی ایک ندی کی سیاہی بھی غالب آجائے گی اس کلام کے اوپر لکھنے کے لحاظ سے ۔ وہ کونسا کلام ہے جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرما رہا ہے کہ اگر ہم سمندروں کو حکم دیتے