خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 364
خطبات طاہر جلد ۵ 364 خطبه جمعه ۱۶ رمئی ۱۹۸۶ء ہے۔ بعض دفعہ خوف محسوس ہوتا ہے میں اس لائق ہوں بھی کہ نہیں کہ مجھے اس جماعت کی سرداری سونپی گئی ہے ۔ خدا کے حضور کانپتا ہوں، استغفار کرتا ہوں ۔ عجیب متقیوں کی جماعت ہے۔ ایسی جماعت ہے جس کی مثالیں تاریخ ہمیشہ فخر کے ساتھ دیتی چلی جائے گی اور کبھی نہیں تھکے گی ۔ آسمان روحانیت پر یہ ستارے بن کر چمکنے والی جماعت ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ساری امنگیں پوری کرنے والی جماعت ہے۔ یہ عجیب ابتلا ہے جس میں پڑ کر یہ کندن بن کے نکل رہی ہے۔ سونا تو کندن بن کر نکلا ہی کرتا ہے، اس کے تو زنگ آلود لوہے کے ٹکڑے بھی سونا اور کندن بن کے اس میں سے نکل رہے ہیں ۔ پس یہ ابتلا ہمیں مبارک ہو۔ خدا کی رحمتوں اور فضلوں کا یہ ابتلا ہے۔ جب تک وہ چاہے ہم حاضر ہیں، اے خدا! ہم حاضر ہیں۔ ہر قربانی کے لئے حاضر ہیں۔ لیکن ساتھ یہ بھی دعا کرتے ہیں کہ ہماری کمزوریوں سے درگزر فرما، عفو فرما، ہماری ستاری فرما۔ جو کمزوریاں تیری ستاری نے ڈھانپ رکھی ہیں ان کو ڈھانچے ہی رہنے دے، ہمیں دشمن کے سامنے ننگا نہ کرنا۔ جو وعدے تیری فتح کے ہمیشہ تیرے رسولوں کے ذریعہ دیئے جاتے رہے ہیں ان سارے وعدوں کو ہمارے حق میں پورا فرما اور ہمیں قیامت کے دن رسوا اور ذلیل نہ کرنا ۔ اے خدا! ہم تو تیری راہ میں یہ قدم اٹھا چکے اب پیچھے ہٹنے والے نہیں لیکن یہ حوصلہ، توفیق اور ہمت اور استقلال بھی تو نے ہی ہمیں عطا کرنا ہے۔ خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: دران حضور نے فرمایا: نماز جمعہ کے معاً بعد تین مرحومین کی نماز جنازہ غائب ہو گی ۔ اول تو وہ دو شہداء ہیں یعنی قمر الحق صاحب جو مکرم سید نجم الحق صاحب امیر ضلع سکھر کے چھوٹے بھائی ہیں جن پر پہلے بھی قاتلانہ حملہ، ان کے بھائی پر بھی ہو چکا ہے۔ خدا کے فضل سے یہ خاندان پوری طرح اس قربانی کی راہ پر ثابت قدم ہے۔ ایک خطبہ میں پہلے میں نے غلطی سے یہ کہ دیا تھا کہ جو اسیران سکھر کے متعلق وہاں کی بار ایسوسی ایشن نے کوئی ریزولیشن پاس کیا تھا۔ لیکن وہ غلطی تھی، سید نجم الحق صاحب چونکہ خود وکیل ہیں اس لئے ان کے بھائیوں یعنی وکیل برادری نے ان کے حق میں اور مولویوں کی شرارت کے خلاف ایک ریز ولیشن پاس کیا تھا۔ دوسرے نو جوان خالد سلیمان ہیں ۔ یہ تین سال قبل احمدی ہوئے تھے۔ جب 1984 ء