خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 359
خطبات طاہر جلد ۵ 359 خطبه جمعه ۱۶ رمئی ۱۹۸۶ء کے نتیجہ میں ظاہر ہونے والی تمنا ہے لیکن حقیقت میں یہ وہ بات نہیں اس میں گہرا عرفان ہے، گہری معرفت ہے۔ تمام دنیا میں خدا کی راہ میں قربانی کرنے والوں نے قربانی کا مضمون محمد مصطفیٰ سے سیکھا۔ آپ ہی کا فیض تھا کہ قربانی کے میدان خدا کی راہ میں کھولے گئے ۔ آپ ہی کا فیض تھا جس کے نتیجہ میں ہزار ہا بلکہ لکھوکھہا انسانوں نے خدا کی راہ میں لبیک کہتے ہوئے بھیڑ بکریوں کی صلى الله علوم طرح اپنی گردنیں کٹوادیں ۔ پس یہ محمد مصطفی ﷺ کا فیض تھا اس لئے اس ثواب کے اولین حقدار صلى الله علي آنحضور ﷺ ہیں جن کی بدولت قربانیوں کا یہ سارا کارخانہ جاری ہوا۔ تو انہوں نے سچ کہا اور صحیح سوچا صلى الله کہ سب سے اول حق دار ان سب قربانیوں کے مستحق حضرت اقدس محمد مصطفی ع ہیں۔ پھر اس میں ایک اور بھی عظیم الشان مضمون یہ ملتا ہے کہ جب انسان کسی اور کو دعائیں دیتا ہے تو اپنے محسن کو دعائیں دیتا ہے اگر دکھ محسوس کر رہا ہو تو دکھ محسوس کر کے تو جس شخص کی طرف سے اس کو دکھ پہنچ رہا ہو اس کو دعا نہیں دیا کرتا۔ کوئی غیر معمولی نعمت ملے تو بے اختیار اور بے ساختہ دل سے دعائیں پھوٹ پھوٹ کر نکلتی ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے حضرت سعد کو اس قربانی کی ایسی لذت محسوس ہوئی ہے اس قربانی کی ، ایسی بے انتہا نا قابل بیان لذت تھی وہ انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے کب مجھے کوئی میری صلى ملے تو آنحضرت ﷺ کا شکر یہ ادا کروں اوران کو دعائیں دوں اور وارے وارے قربان جاؤں آپ علی کے اوپر کہ یا رسول اللہ ! آپ نے تو حد ہی کر دی آپ کا اتنا بڑا احسان کہ مجھے شہادت نصیب ہوئی ربانی ، ساری دنیا کی قربانیوں کے ثواب آپ کو ملیں ۔ اس قدر شدت کے ساتھ یہ دعا دل سے پھوٹ ہی نہیں سکتی جب تک غیر معمولی طور پر دل کو لذت حاصل نہ ہوئی ہو۔ یہ مضمون بھی حل ہو گیا کہ فَرِحِينَ یہ لوگ بہت ہی خوش ہوتے ہیں ، جان دینے سے پہلے بھی خوش ہوتے ہیں جبکہ سامنے بظاہر موت کھڑی نظر آرہی ہوتی ہے لیکن وہ جانتے ہیں کہ یہ ابدی زندگی کا رستہ ہے اور جان دینے کے بعد بھی ابدی زندگی پانے کے بعد بھی وہ لوگ خوش رہتے ہیں اور ان سب تجارب سے گذرنے کے بعد ان لوگوں کے لئے منتظر رہتے ہیں جو ان کے بعد اس سعادت سے حصہ پائیں اور خدا کی راہ میں جانیں دے کر ان خوش نصیب لوگوں میں جا ملیں ۔ (شروع الحرب ترجمه فتوح العرب صفحه : ۳۸۹) پس یہ ہے وہ شہادت کا مضمون جس کو قرآن کریم کے بیان کے مطابق عظیم الشان نعمتوں میں سے ایک نعمت قرار دیا گیا ہے۔ پس پرنعمتیں اگر چودہ سو سال کے بعد پھر ہمارے مقدر میں لکھ دی گئیں ہیں