خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 358 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 358

خطبات طاہر جلد ۵ 358 خطبه جمعه ۱۶ رمئی ۱۹۸۶ء سے اور یہ صلى الله ، اور یہ عظیم الشان خیال ہے ۔ صحابہ کا ، اقدس محمد مصطفی ﷺ سے عشق تھا اور جو عظیم صحابہ کا جو حضرت احترام تھا آپ کے لئے اس کی بھی یہ واقعہ پردہ کشائی کر رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب مجھے یہ خیال آیا تو میں نے بجائے اس کے یہ آواز دی کہ سعد ! تم کہاں اں ہو میں نے یہ آواز لگائی کہ سعد بن رہی ربیع کہاں ہیں مجھے رسول اللہ ﷺ نے آپ کی طرف بھیجا ہے۔ تو کہتے ہیں اس آواز نے سعد کے نیم مردہ جسم میں بجلی کی ایک لہر دوڑا دی اور انہوں نے چونک کر مگر بہت ہی دھیمی آواز میں جواب دیا ” کون ہے میں یہاں ہوں، اسْتَجَابُو اللَّهِ وَالرَّسُولِ کا ایک یہ بھی نقشہ ہے۔ انہی آیات جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہی نے ایک محاورہ یہ بھی خدا تعالیٰ استعمال فرمایا ہے۔ الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ ایسے لوگ بھی ہیں جو شدید زخموں کی حالت میں ہیں ، ایک یہ بھی معنی ہیں جنہیں زخموں نے ان کو نڈھال کر رکھا ہے مگر اللہ اور رسول کے نام پر جو آواز بلند ہوتی ہے تو وہ بے اختیار ہو کر اس کا جواب دیتے ہیں، کہتے ہیں ہم حاضر ہیں ، ہم حاضر ہیں ۔ تو اس آیت کی بھی ایک عملی تصویر اس حسین رنگ میں ہمارے سامنے رکھی گئی کہ جب یہ آواز سنی کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اور آپ کی طرف سے تمہیں بلا رہا ہوں انہوں نے کہا ” میں یہاں ہوں ابی بن کعب نے غور سے دیکھا تو تھوڑے فاصلے پر مقتولین کا ایک ڈھیر لگا ہوا تھا۔ اس ڈھیر میں سعد کو جانکنی کی حالت میں پایا۔ ابی بن کعب نے ان سے کہا کہ مجھے آنحضرت ﷺ نے اس لئے بھیجا ہے کہ میں تمہاری حالت سے آپ کو اطلاع دوں ۔ سعد نے جواب دیا کہ رسول اللہ سے میر اسلام عرض کرنا اور کہنا کہ خدا کے رسولوں کو جوان کے متبعین کی قربانی اور اخلاص کی وجہ سے ثواب ملا کرتا ہے خدا آپ کو وہ ثواب سارے نبیوں سے بڑھ چڑھ کر عطا کرے۔ الله اس فقرہ میں بہت گہرائی ہے اس میں ڈوب کر دیکھیں کتنی عظیم الشان محبت اور عشق اور معرفت کا مضمون آپ کو اس میں ملے گا ۔ اول تو جو خدا کی راہ میں قربانی کرنے والا ہے اس کو اپنے ثواب کی فکر نہیں اس کی دلی تمنا یہ ہے کہ میرا بھی اور ساری دنیا میں جتنے بھی خدا کی راہ میں قربانی کرنے والے ہیں ان سب کا ثواب محمد مصطفی اللہ کو پہنچے ۔ عام نظر میں دیکھا جائے تو محض ایک محبت