خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 108 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 108

خطبات طاہر جلد ۵ 108 خطبه جمعه ۳۱ جنوری ۱۹۸۶ء کے ذریعہ جس میں حقوق شرکاء کو تلف کیا جاتا ہے۔ ہے۔“ 66 اس کی وجہ یہی میری سمجھ میں آتی ہے کہ اولاد کے لئے خواہش ہوتی یہ نکتہ کی بات ہے کہ بہت ساری بددیانتیاں انسان اپنی زندگی میں اس لئے کر رہا ہوتا ہے کہ اولاد کی غلط محبت ہوتی ہے اور اس کو پتہ ہی نہیں کہ میں کیسی محبت کر رہا ہوں ۔ یہ جو نکتہ ہے ایک کو بہت ہی باریک ذہن اس نکتہ کو اخذ کر سکتا ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذہنی افتاد کا آپ کی طرز فکر کی لطافت کا پتہ چلتا ہے ۔ آپ فرماتے ہیں کہ روز مرہ کی زندگی میں جو رشوتیں لی جارہی ہیں، ہر قسم کی حرام خوری ہو رہی ہے ، لوگوں کے مال ضبط کئے جارہے ہیں اس کی کنہ میں ایک اولاد کی محبت کا ہے۔ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ہم اولاد کے لئے اتنی چیزیں چھوڑ جائیں پیچھے، اتنا کچھ اکٹھا کر لیں ۔ تو جس اولاد کی تمنا خود گناہ میں مبتلا کر رہی ہے اس اولاد کے ہونے یا نہ ہونے سے پھر کیا فرق پڑتا ہے؟ یہی فرق پڑ سکتا ہے کہ اولاد نہ ہوتی تو اس کے لئے بہتر تھا۔ یہ ہے وہ بار یک نتیجہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نکال رہے ہیں فرماتے ہیں۔ کیونکہ بعض اوقات صاحب جائیدا دلوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ کوئی اولاد ہو جاوے جو اس جائیداد کی وارث ہوتا کہ غیروں کے ہاتھ میں نہ چلی جاوے مگر وہ نہیں جانتے کہ جب مر گئے تو شرکاء کون اور اولادکون سب ہی تیرے لئے تو غیر ہیں اولاد کے لئے اگر خواہش ہو تو اس غرض سے ہو کہ وہ خادم دین 66 ہووے ( ملفوظات جلد ۴ صفحه : ۴۴۴) پس اگر اولاد کے لئے خواہش اس غرض سے ہو کہ وہ خادم دین ہووے تو اولاد نہ ہونے کے نتیجہ میں انسان خود بھی خادم دین نہ رہے بلکہ کہیں کا نہ رہے یہ کون سی عقل کی بات ہے۔ اولاد کی تمنا کا مقصد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ نیک اولاد ہو اور اگر نیک اولاد نہیں تو نہ ہو، یہ نتیجہ نکل رہا ہے اور یہ پہلوا کثر اولاد کی تمنا کرنے والوں کے ذہن میں نہیں ہوتا۔جس کی وجہ سے اولاد کے ابتلاء میں مبتلا ہو کر اپنے ایمان کو بھی کھو دیتے ہیں۔ پس یہ طعنہ کہ اولاد نہیں ہے اس ضمن میں چونکہ ایک بڑی اہم بات تھی کہنے والی اس لئے