خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 107 of 912

خطبات طاہر (جلد 5۔ 1986ء) — Page 107

خطبات طاہر جلد ۵ 107 خطبه جمعه ۳۱ جنوری ۱۹۸۶ء ماں باپ کے واسطے سلب ایمان کا موجب ہو جاتے ہیں۔ اولا د تو بہت بڑا ابتلاء ہے ( ملفوظات جلد ۵ صفحہ: ۴۱۵ ) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔ دو دین کی جڑ اس میں ہے کہ ہر امر میں خدا تعالیٰ کو مقدم رکھو دراصل ہم تو خدا کے ہیں اور خدا ہمارا ہے اور کسی سے ہم کو کیا غرض ہے۔ ایک نہیں کروڑ اولا د مر جائے پر خدا راضی رہے تو کوئی غم کی بات نہیں ( ملفوظات جلد ۵ صفحہ: ۴۱۹) اس کو ایمان کہتے ہیں ایک طرف وہ حال ہے کہ اولاد کی محبت میں لوگ دہر یہ ہو رہے ہیں یا خدا نے بیٹا دیا اور واپس لے لیا تو ساری زندگی اس شک میں مبتلا رہے کہ خدا تھا بھی کہ نہیں تھا یا اگر تھا تو ظالم خدا تو نہیں تھا جس نے ایک بیٹا دیا اور یہ بھی نہیں دیکھا کہ ہمارا حال کیا ہوگا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے مقابل پر یہ تعلق رکھتے ہیں اپنے رب سے فرماتے ہیں کہ ایک نہیں کروڑ اولا د مر جائے پر خدا راضی رہے تو کوئی غم کی بات نہیں ۔ اگر اولا د زندہ بھی رہے تو بغیر خدا کے فضل کے وہ بھی موجب ابتلاء ہو جاتی ہے۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں ۔ وو پس وہ کام کرو جو اولاد کے لئے بہترین نمونہ اور سبق ہو اور اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے اول خودا اپنی اصلاح کرو ۔ اگر تم اعلیٰ درجہ کے متقی اور پر ہیز گار بن جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کو راضی کر لو گے تو یقین کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالی تمہاری اولاد کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرے گا ۔ قرآن شریف میں خضر اور موسی علیہما السلام کا قصہ درج ہے کہ ان دونوں نے مل کر ایک دیوار کو بنا دیا جو یتیم بچوں کی تھی وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَكَانَ أَبُوهُمَا صَالِحًا (الکھف:۸۳) ان کا والد صالح تھا، یہ ذکر نہیں کیا کہ وہ آپ کیسے تھے پس اس مقصد کو حاصل کرو۔ اولاد کے لئے ہمیشہ اس کی نیکی کی خواہش کرو ۔ اگر وہ دین اور دیانت سے باہر چلے جاویں پھر کیا؟ اس قسم کے امور اکثر لوگوں کو پیش آجاتے ہیں ۔ بد دیانتی خواہ تجارت کے ذریعہ ہو یا رشوت کے ذریعہ یا زراعت