خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 700 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 700

خطبات طاہر جلد۴ 700 خطبه جمعه ۱۶ اگست ۱۹۸۵ء بچانے کی کوشش کرتے ہیں وہ مغلوب ہوتا ہے کسی اور بیماری سے لیکن کینسر میں یہ فرق ہے کہ یہ خود صحت مند حصے کو مغلوب کر رہا ہوتا ہے۔ یعنی جسم کا اپنا ایک حصہ ہے لیکن ان کا خون چوس کر خود بڑھ رہا ہے ان کی دوسری طاقتوں کو غصب کر رہا ہے اور وہ بیچارے صحت مند اجزاء جواپنا دفاع نہیں کر سکتے اُن پر یہ غالب آجاتا ہے اور ان کا خون چوستا چلا جاتا ہے۔ تو یہ بغاوت ہے جس کو انگریزی زبان میں اصطلاحاً کینسر کہا جاتا ہے یعنی جسمانی بغاوت اور روحانی لحاظ سے ایسے شخص کا نام آشر رکھا جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن کریم سے پتہ چلتا ہے کہ پہلے بھی بعض ایسے لوگ پیدا ہوئے تھے جنہوں نے خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں کو اور صالحین کو آشیر ہی قرار دیا تھا یعنی کینسر سوسائٹی کا۔ چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے ثمود کی قوم میں سے ایک نے کہا یا ثمود کی قوم نے صالح کو مخاطب ہو کر کہا الْقِي الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِر (القمر : ۲۶) کیا ہم جیسے لوگوں میں خدا کا ذکر چل پڑے اور خدا کا ذکر اتارا جائے ہمارے جیسے لوگوں پر ! ہم جانتے ہیں اپنی سوسائٹی کے حال ! ہو کیسے سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کلام کرے اور ہم جیسے لوگوں میں سے کسی سے کلام کرے یہ من بيننا نے ان کی سوسائٹی کی قلعی کھول دی ۔ یعنی ہم جتنے صالح ہیں ہمیں پتہ ہے کہ کتنے صالح ہیں۔ جو ہمارا حال ہے تقدس کا وہ ہم جانتے ہیں اور ہم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا ہے اور یہ دعویٰ کر رہا ہے مجھ پر تم لوگوں کے درمیان اللہ کا ذکر اتارا جا رہا ہے، یہ نہیں ہو سکتا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِر نہیں نہیں بلکہ یہ تو بہت سخت جھوٹا ہے اور امیر ہے ، باغی ہے ، سوسائٹی کا کینسر ہے، یہ تمہیں کھا جائے گا، تمہارا خون چوس جائے گا اور بیمار حصہ کے ہونے کے باوجود یہ صحت مند حصہ پر قبضہ کر جائے گا، تو اسی کو کینسر کہتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی اس آیت کے پہلے حصہ نے بتا دیا کہ ان کی دلیل بالکل بودی اور بے معنی ہے اور اس کے اندر ہی اس کی اپنی شکست کے سامان موجود ہیں ۔ جس سوسائٹی کا یہ حال ہو کہ لقائے باری تعالیٰ سے مایوس ہو چکی ہو جو اس بات کو تعجب سے دیکھے کہ خدا کا کلام نازل ہو سکتا ہے اس زمانے میں کسی انسان پر ، اُس سوسائٹی کا یہ کہنے کا حق نہیں کہ ہم صالح ہیں اور تم غیر صالح ہو۔ صالح تو وہی ہوگا جس سے خدا کلام کر سکتا ہے، وہ تو صالح نہیں کہلا