خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 699
خطبات طاہر جلد۴ 699 خطبه جمعه ۱۶ اگست ۱۹۸۵ء ہوتا دنیاوی لحاظ سے کہ ایک جماعت کا ہر فرد ہوشیار ہو اور بیدار مغز ہو، آنکھیں کھول کر رکھے اور یہ سمجھے کہ گویا اس کی ذمہ داری ہے حفاظت کی ۔ اس نظر سے اگر ساری جماعت نگران رہے تو جو مصنوعی ذریعے ہیں حفاظت کے مثلاً حکومتیں بہت بہت پیسے دے کر ماہروں کو رکھتی ہیں ان کے مقابل پر یہ حفاظ حفاظت کا ذریعہ بہت زیادہ بہتر ہے۔ ورنہ تو بڑی بڑی حکومتوں کی حفاظت میں بھی جب قاتل قتل کرنا چاہیں تو کر دیا کرتے ہیں لیکن سب اگر بیدار ہوں سب کی نظر اس بات پر رہے اور متوجہ ہوں اور قربانی کے لئے تیار ہوں تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ حفاظت کا معیار بہت زیادہ بلند ہو جایا کرتا ہے۔ اب میں آخر پر ایک اور پہلو سے اس بات پر روشنی ڈالتا ہوں کہ صدر محترم نے جو زبان اختیار کی ہے یہ کیا ہے زبان ؟ جماعت احمدیہ کے متعلق یہپیغام میں کہا ہے کہ یہ کینسر ہے ہماری سوسائٹی کا اور میں سربراہ مملکت کے طور پر تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس کینسر کو اکھاڑ کے پھینک دوں گا۔ یہ کیسی زبان ہے؟ کسی مہذب ملک کا کوئی سربراہ ایسی زبان استعمال کیا نہیں کرتا ۔ تو کیا مقصد ہے اس سے کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ ایک تو یہ نتیجہ ایک احمدی نکال سکتا ہے کہ شدید ذاتی بغض وعناد ہے جماعت کے خلاف گویا کہ مذہبی جنون ہے ، لیکن صدر محترم کی جو دوسری ادائیں ہیں وہ اس بات کو درست نہیں بتاتیں ۔ کیونکہ ایسا شخص جو جماعت احمد یہ کے خلاف بغض و عناد میں اس طرح ابل رہا ہو کہ جب بولے تو اس زبان میں بولے۔ وہ یہ تو نہیں کر سکتا کہ بعض قسم کے احمدیوں کے گھروں میں جا کر ان کی تقریبات میں شامل ہوان کے ساتھ مل کر تصویر میں کھنچائے اور دونوں اس پر فخر کرنے لگیں ۔ تو یہ بات تو بالکل ایک مختلف قسم کی شخصیت کا پتہ دیتی ہے، اس لئے کوئی اور بات ہے۔ ایک بات تو یہ ہے میں سمجھتا ہوں کہ ان کی تقدیر ہے کہ ان کو یہ زبان استعمال کرنا پڑی کیونکہ کینسر باغی کو کہتے ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ کسی اور بیماری کا نام باغی نہیں رکھا جا سکتا سوائے کینسر کے کیونکہ کینسر میں جو عضو بیمار ہوتا ہے، جس حصہ کو بیمار سمجھا جاتا ہے ، اس کی بیماری یہ ہے کہ وہ باقی نظام کے خلاف بغاوت کرتا ہے پھر اس کو بچایا نہیں جاتا اور نہ ماؤف حصوں کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جو جسم کا ماؤف حصہ عام بیماریوں میں ہو اس کو آپ