خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 647 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 647

خطبات طاہر جلد۴ 647 خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۸۵ء اور Excitement کی حالت میں ذہن پھر تدبیریں بھی بڑی سوچتا ہے۔ چنانچہ عام طور پر جولوگ خاموش طبیعت کے تھے ان کے ذہن میں کوئی ترکیب آیا ہی نہیں کرتی تھی اب خط آتے ہیں ۔ ایسی ایسی باتیں اللہ تعالیٰ ان کو سجھاتا ہے کہ پڑھتے ہوئے مزہ آجاتا ہے۔ ہر آدمی دنیا کے کونے میں بیٹھا ہوا ایک تدبیر کر رہا ہے اور وہ سوچ رہا ہے کہ کس طرح ان کو شکست دی جائے اور کہ ائے اور کس طرح ان سے اس ظلم کا ظلم کا نیکی کے ذریعہ سے انتقام لیا جائے، کس طرح ان کو ہر میدان میں مایوس اور نامراد کر دیا جائے۔ ساری دنیا کا جواحمدی ذہن ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے پہلے سے ہی چپکا ہوا ہے اور صیقل ہے اس کی ترکیبیں یہاں اکٹھی ہوتی جارہی ہیں اور اس کا نام خلافت ہے ۔ تمام جماعت کا اجتماعی فکر، تمام جماعت کا اجتماعی دل تمام جماعت کی اجتماعی قوت، تمام جماعت کے اجتماعی احساسات اور ولولے جب یہ ایک دماغ میں اکٹھے ہو جاتے ہیں جب ایک دل میں دھڑکنے لگتے ہیں جب ایک خون کی رگوں میں دوڑنے لگتے ہیں تو اس کا نام خلافت ہے۔ یہ چیز بنائے سے نہیں بن سکتی ۔ کوئی مصنوعی ذریعہ خلافت پیدا ہی نہیں کر سکتا ۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی دین ہے، اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے جو نبوت کے ذریعہ خلافت کو جاری کرتی ہے اور پھر ایک وجود بنادیتی ہے لاکھوں کو جو کروڑوں بھی ہو جائیں تو ایک وجود رہتے ہیں اور ان کی ساری استعدادیں پھر اکٹھی ہو کر مجتمع ہوتی ہیں ایک مرکز پر اور پھر مزید صیقل ہو کر ، دعاؤں کے ساتھ چمک کر پھر وہ انتشار اختیار کرتی ہیں پھیلتی ہیں۔ ایسی جماعت کو یہ لوگ ہرانے کے لئے نکلے ہیں جب اپنے محفوظ قلعوں میں بھی لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ قوانین کی دیواریں کھڑی کرلیں اپنے اردگرد اور اس کے باوجود روتے رہے اور آج تک رو رہے ہیں کہ پھر بھی ہم احمدیت کی دستبرد سے محفوظ نہیں رہے۔ ہماری دیواروں میں دراڑیں ڈال دی ہیں ان لوگوں نے ، آج بھی تبلیغ جاری ہے اسی طرح آج بھی Defy کر رہے ہیں ایک آمر کے احکام کو کہ آج بھی یہ اپنے اسلام پر بر ملا عمل کر رہے ہیں، یہ اعلان بھی ساتھ ساتھ ہو رہا ہے۔ تو جن کے قلعہ بندوں کا یہ حال تھا ان کو سو بھی کیا کہ وہ دیواریں تو ڑ کر خود نکل آئے ہیں۔ ان کے تو مقدر میں مار اور پھر مار اور پھر مار ہے لیکن جماعت احمدیہ کی مار تو وہ مار نہیں ہے جیسی تم سمجھتے ہو کہ مار ہوا کرتی ہے۔ ہماری مار تو یہ ہوگی کہ جتنا تم احمدیوں کو کم کرنے کی کوشش کرو گے