خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 646
خطبات طاہر جلد ۴ 646 خطبہ جمعہ ۲۶ جولائی ۱۹۸۵ء کر کے احمدیوں کے پاس پہنچتے ہیں کہ بھئی ہمیں تو لوگ یہ بتا رہے ہیں تمہارے متعلق بتاؤ کیا بات ریوں کے پاس پہنچتے ہیں ہے کیا قصہ ہے؟ ہر سطح پر جہاں داعی الی اللہ بننے میں لوگوں نے سستی کی تھی وہاں ان مولویوں کی کوششوں کے نتیجہ میں جن کو تبلیغ کرنی ہے وہ خود پہنچ رہے ہیں احمدیوں کے پاس ان کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر داعی الی اللہ بنا رہے ہیں۔ چنانچہ مجھے روزمرہ ایسی اطلاعیں ملتی ہیں۔ ہم سفر کر رہے تھے پتہ لگا کہ ہم ا احمدی ہیں ہمیں پکڑ لیا کہ بتاؤ ہمیں کچھ کیا مذہب ہے ، کیا بات ہے، کیا اختلاف ہے ۔ ہمارے گھر پر آئے ہم سے پوچھا، مجلس میں ملے ہم سے پوچھا۔ تو جو تبلیغ نہیں کرتے تھے ان سے تبلیغ کروائی جارہی ہے اب اور اس کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ میں ایک نیا حوصلہ پیدا ہو رہا ہے ، نیا ولولہ پیدا ہو رہا ہے ، علم کا ایک نیا شوق پیدا ہورہا ہے اور پھر جب وہ ہمیں لکھتے ہیں کہ یہ یہ اعتراض ہیں تو لٹریچر کی ایک طلب پیدا ہو جاتی ہے اور ہم محسوس کرتے ہیں کہ فلاں فلاں جگہ خلا ہیں اس قسم کا لٹریچر تیار ہونا چاہئے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے لٹریچر کی تیاری کی طرف غیر معمولی توجہ پیدا ہوگئی ہے اور ہر زبان کا یہی حال ہے کثرت کے ساتھ ترکی زبان کے جاننے والے یوگوسلاوین جاننے والے، اٹالین جاننے والے، جرمن جاننے والے، ہر زبان کے بولنے والے یہ بھنک سُن چکے ہیں کہ کوئی واقعہ کز ررہا ہے۔ کچھ احمدیت کے اوپر جو مظالم ہوئے ہیں پاکستان میں کچھ اس کے نتیجہ میں کچھ علماء رہا کے شور کے نتیجہ میں، کچھ حکومت پاکستان نے جولٹریچر تقسیم کروایا اس کے نتیجہ میں اور یہ بھی لوگ بڑے تعجب سے مجھے لکھ ہیں کہ ہم Embassies میں مختلف سفارت خانوں میں، مختلف بڑے بڑے افسروں کو جب ملنے جاتے ہیں تو ان کو سب پہلے سے ہی پتہ ہوتا ہے۔اس کثرت سے جماعت کا پرو پیگنڈا ہوا ہے دنیا میں کہ آپ ارب ہا ارب روپیہ بھی خرچ کرتے تو کبھی اتنے عظیم الشان، اتنے وسیع پرو پیگنڈا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے تھے۔ عربوں کو جو توجہ پیدا ہوئی ہے وہ حیرت انگیز ہے اور مختلف طبقات کو جو پہلے بالکل خالی تھے ہماری تبلیغ سے، بعض قو میں ہیں جو خالی تھیں ان طبقات کو ، ان قوموں کو توجہ پیدا ہوگئی ہے خدا کے فضل سے اور ایک عجیب Excitement کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے احمدیوں میں ۔ اب تو کہتے ہیں کہ اب جلدی ہو جو کچھ بھی ہونا ہے ۔ ہمارا علم بڑھے ، ہمیں کتا بیں زیادہ ملیں، نئے نئے ذرائع ہاتھ آئیں