خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 610
خطبات طاہر جلد ۴ 610 خطبہ جمعہ ۱۲ جولائی ۱۹۸۵ء میں بھی یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ کیوں بے چین ہیں۔ ان کو میں نے لکھا کہ آپ بالکل مطمئن رہیں مجھے خدا کے فضل سے اطمینان ہے ، یہ دن ایسے ہیں ایسی کیفیت ہے جماعت کی کہ ہو نہیں سکتا کہ جماعت احمد یہ اپنی قربانی کے معیار کو کم کر دے آپ کو خطرہ یہ ہے کہ گزشتہ سال سے آمد گر جائے گی لیکن مجھے یقین ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ بڑھ جائے گی ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل کے کرشمے دکھانا چاہتا ہے۔ یہ جماعت ہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صداقت کا زندہ معجزہ ہے جو کچھ ان کے سروں پر سے گزر جائے یہ کمی نہیں آنے دیں گے۔ چنانچہ میں نے جماعت کو تحریک نہیں کی ورنہ کوئی کہہ سکتا تھا کہ میرے ایسے جذباتی الفاظ سن کر جماعت میں ایک جوش پیدا ہو گیا ، کپڑے بیچ دیئے اور گھر کی چیزیں بیچ ڈالیں۔ یہ صرف میرے اور ان کے درمیان خط و کتابت تھی۔ کل ان کا خط ملا ہے جو اللہ تعالیٰ کے بے انتہاء شکر سے لبریز ۔ لکھتے ہیں کہ یہ دیکھ کر حیرت ہوئی ہے کہ گزشتہ سال کی آمد سے امسال خدا کے فضل سے اب تک اٹھارہ لاکھ روپے زائد وصول ہو چکے ہیں اور ابھی وصولیاں جاری ہیں ۔ یہ ہے وہ جماعت جس کا قرآن کریم میں ذکر ہے اور قرآن کریم کے اذکار ایک غیر معمولی مقام رکھتے ہیں۔ خدا تعالیٰ جب اپنے بندوں کا ذکر فرماتا ہے تو لاز م وہ باتیں پوری ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں اور قرآن کریم بار بار یہ امور بھی بیان فرماتا ہے کہ جو ہماری خاطر مالی قربانیاں پیش کرتے ہیں اور ہم پر تو کل کرتے ہیں ہم ان کے اموال میں کمی نہیں آنے دیتے۔ ہم انہیں بڑھاتے ہیں اور انہیں لاوارث نہیں چھوڑا کرتے۔ جماعت احمد یہ خدا تعالیٰ کے فضل سے مالی قربانیوں میں بھی قرآن کریم کی کھینچی ہوئی تصویروں کے مطابق اپنے نقوش بنارہی ہے۔ اس آئینہ میں اپنا چہرہ دیکھ رہی ہے۔ خدا تعالیٰ کے فضلوں کی جو بارش پہلوں پر برسا کرتی تھی ہم پر بھی برس رہی ہے۔ تو اس جماعت کی مخالفت کے نتیجہ میں کیسے کوئی پہلے نقصان پہنچا سکتا ہے۔ دشمن کے لئے اس کے سوا اور کوئی صورت نہیں ہے کہ وہ اپنے غیظ و غضب میں جلتا ر ہے اور تکلیف میں مبتلا ہوتا چلا جائے ، حسد کی آگ بھڑکتی چلی جائے ، اس کے سوا اس کے نصیبے میں کچھ نہیں ہے۔ جماعت احمد یہ کی ہلاکت دیکھنے والی آنکھیں لازماً نا کامی کی آگ میں جلتی ہوئی مریں گی ، ختم ہو جائیں گی اور ان کے دلوں میں حسد کی آگ اور زیادہ بھڑکتی رہے گی لیکن ان کو یہ تسکین کبھی