خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 609
خطبات طاہر جلد ۴ جزو بن چکی ہیں۔ 609 خطبہ جمعہ ۱۲ جولائی ۱۹۸۵ء چنانچہ جب ہم عمومی طور پر جماعت احمد یہ کے چندوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالتے ہیں تو سوفی صدی قطعیت کے ساتھ اعداد و شمار کے ساتھ یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ قرآن کریم نے بہت ہی پیار اور محبت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جن عشاق کا ذکر کیا ہے وہ حسین نقوش ہماری صورت میں بھی نظر آتے ہیں اور آج جماعت احمد یہ پر اللہ کا یہ بڑا احسان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت سے ہم آخرین ہو کر بھی بہت سے اچھے پہلوؤں میں اولین سے جاملے ہیں۔ چنانچہ جو رپورٹیں ملی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ گزشتہ مالی سال ۸۵-۱۹۸۴ء کے متعلق ہمارے ناظر صاحب بیت المال بہت ہی فکرمند تھے۔ ان کا ہمیشہ سے یہی دستور ہے کہ خلفاء وقت کو وہ چند مہینے پہلے سے گھبراہٹ کے خطوط لکھنے شروع کر دیتے ہیں اور پچھلے دو تین سال سے مجھے بھی اسی طرح لکھتے رہے لیکن اس دفعہ ان کے خطوں میں کوئی خاص بے چینی پائی جاتی تھی اور انہوں نے اس کا بڑا کھل کر اظہار کیا کہ دراصل ایک تو جماعت پر بہت آزمائش کے دن ہیں کثرت سے لوگوں کے قید ہونے کی وجہ سے مقدمات پر خرچ ، نوکریوں سے محرومی ، تجارتوں پر بداثرات اور اتنے وسیع پیمانے مظالم ہو رہے ہیں کہ وہ لکھتے ہیں مجھے حقیقت ڈر تھا جب میں آپ کو لکھتا تھا تو کوئی فرضی بات نہیں تھی یا محض دعا کی تحریک کی خاطر مبالغہ آمیزی سے کام نہیں لیتا تھا بلکہ مجھے واقعہ نظر آ رہا تھا کہ اس دفعہ شاید ہمارا بجٹ پورا نہ ہو سکے۔ پر یہ دوسرے ملکی اقصادی حالات وہ کچھ ایسی خطرناک روش پر چل پڑے ہیں کہ ہر اگلے دن پہلے دن سے بدتر حال ہو رہا ہے۔ پانی کی کمی ، بجلی کی کمی ، بد دیانتی کا بڑھ جانا۔ایسے ممالک جن میں پاکستانی مز در کام کرتا تھا ان کے حالات کی تبدیلی کے نتیجہ میں ان کا ملازمتوں سے فارغ ہو کر کثرت کے ساتھ اپنے وطن کو واپس آنا فصلوں کی حالت کچھ تو پانی کی کمی کی وجہ سے متاثر ہوئی کچھ دیگر ایسے موسمی حالات پیدا ہوئے کہ بہت ہی غیر معمولی کمی واقع ہوئی گندم میں بھی اور دوسری فصلوں میں بھی چنانچہ انہوں نے اعداد و شمار لکھے کہ حکومت اتنے وسیع پیمانے پر اس سال گندم (Import) درآمد کر رہی ہے۔ اس سے یہی پتہ لگ جاتا ہے کہ احمدی زمیندار لازماً متاثر ہوئے ہوں گے۔