خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 471
خطبات طاہر جلد۴ 471 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۸۵ء صفات پائی تو جاتی ہیں مگر مریض ہیں یا سفر کی حالت میں ہیں تو وہ اس مہینہ کے بدلے اور دنوں میں روزے رکھ لیں ۔ يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور تنگی نہیں چاہتا۔ یہ جو فر مایا گیا اس میں عبادت کا فلسفہ بیان فرما دیا گیا ہے۔ اگر چہ رمضان جوفر گیا کی عبادت سے جسمانی تنگی کا بھی تعلق ہے اور بعض رمضان کے مہینے جو بعض علاقوں میں نہایت شدید گرمی کی حالت میں آتے ہیں ان میں بہت سخت جسمانی اذیت بھی انسان کو پہنچتی ہے مگر اذیت دینا خدا کا مقصود نہیں ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ پابندی نہیں لگائی جاتی کہ جو گرمیوں کے روزے ہیں انہیں پورا کرنے کے لئے ویسی ہی شدید گرمیوں کا انتظار کیا جائے ویسے ہی تکلیف دہ حالات کا انتظار کیا جائے جب وہ آئیں تو رکھوتا کہ وہ بدلہ پورا ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے چونکہ ہمارا مقصد دکھ دینا اور تکلیف پہنچانا نہیں ہے اس لئے ہم اس شرط کو اڑا دیتے ہیں اور اگر تم واقعہ مجبور ہو کر اس مہینے میں روزے نہیں رکھ سکتے تو تمہیں کھلی آزادی ہے کہ روزوں کی گنتی پوری کرو۔ خواہ وہ نسبتاً آسان دنوں میں پوری کر دیا اسی طرح کے سخت دنوں میں پوری کرو۔ تمام عبادات میں یہی فلسفہ شامل حال ہے۔ کسی جگہ بھی عبادت بذات خود اذیت کا موجب نہیں ، نہ اذیت سے اللہ تعالیٰ کوئی لذت پاتا ہے۔ بنی نوع انسان کو دکھ میں مبتلا کر کے خدا تعالیٰ کوئی فرحت نہیں پاتا۔ نہ دکھ میں مبتلا ہونا براہ راست انسان کے لئے تزکیہ نفس کا موجب بن سکتا ہے۔ عبادت کی اصل روح اطاعت ہے۔ اطاعت کے ساتھ اگر دکھ وابستہ ہو تو اس دکھ کو خوشی سے قبول کیا جائے۔ اور اطاعت کے ساتھ اگر فرحت وابستہ ہو تو ز بر دستی اس فرحت کو دکھ میں تبدیل نہ کیا جائے بلکہ خوشی سے اس فرحت کو بھی قبول کیا جائے اور یہ کوشش نہ کی جائے کہ محبوب کی خاطر زبر دستی تکلیف اٹھا کر اسے خوش ہونے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ یہ روح جو ہے زبر دستی کسی کو خوش کرنا کسی کی خاطر تکلیف اٹھا کر، یہ اسلامی عبادات سے کلیہ مفقود ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موضوع پر بارہا مختلف مواقع پر مسلمانوں کو نصائح فرمائیں اور خوب کھول کھول کے واضح فرمادیا کہ تم خدا تعالیٰ کو سختیوں کے ذریعہ مجبور نہیں کر سکتے ۔ یعنی اپنے جسم کو سختی میں ڈال کر اپنی جان کو مشقت میں ڈال کر ز بر دستی تم خدا کی رضا حاصل