خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 470
خطبات طاہر جلد ۴ 470 خطبه جمعه ۲۴ رمئی ۱۹۸۵ء اس مہینے کی برکتوں کا جہاں تک تعلق ہے سب سے بڑی سب سے اہم برکت جس کا قرآن کریم نے ذکر فرمایا ہے وہ خود قرآن کریم کا نزول ہے ۔ فرمایا أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ کہ ایک ایسا عظیم الشان کلام اس مہینے میں اتارا گیا یعنی کلام الہی کے نزول کے آغاز کا یہ مہینہ ہے۔ اور یہ معنی بھی ہیں کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں مسلسل جبرائیل بار بار تشریف لاتے رہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قرآن کریم کا مکمل دور کرواتے رہے جتنا قرآن بھی اس وقت تک نازل ہو چکا تھا۔ تو یہ وہ مہینہ ہے جس مہینہ میں قرآن کا نزول شروع ہوا اور مسلسل آنحضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال تک قرآن کریم جتنا بھی نازل ہو چکا ہوتا تھا اس کی اس مہینہ میں تکرار کی جاتی تھی اور بار بار وہی قرآن کریم دوبارہ نازل فرمایا جاتا تھا پس خدا تعالیٰ اس عظیم الشان برکت کی طرف توجہ دلا کر فرماتا ہے فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ جس کسی کو بھی یہ مہینہ دیکھنے کی سعادت نصیب ہو فَلْيَصُمْهُ وہ اس میں ضرور روزے رکھے۔ یہ نہیں فرمایا کہ جس شخص پر بھی یہ مہینہ آجائے وہ روزے رکھے کیونکہ یہ مہینہ کمزوروں پر بھی آتا ہے، طاقتوروں پر بھی آتا ہے، ان پر بھی آتا ہے جو ایمان لاتے ہیں اور ان پر بھی آتا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔ مہینہ تو ایک جغرافیائی حقیقت کا نام ہے جو دنیا کے طبعی جغرافیہ سے تعلق رکھنے والی حقیقت ہے اس لئے یہ تو سب پر آتا ہے ۔ شَهِدَ مِنْكُمْ میں جہاں شہد فرمایا گیا وہاں صرف یہ مراد نہیں کہ جو تم میں سے اس مہینے کو دیکھے بلکہ شہادت کے تمام تفصیلی معانی یہاں مراد ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جو اس مہینہ کا عرفان رکھتا ہو ، جو اس مہینہ کا منتظر ہو اور پھر اسے پالے۔ جو اس مہینہ پر خدا کی طرف سے نگران مقرر فرمایا گیا ہے، اس کے حقوق ادا کرنے کی نگرانی جس کے سپرد کی گئی ہے۔ شہادت کے یہ سارے معانی ہیں اس کے علاوہ بھی اور معانی ہیں ۔ پس شَهِدَ مِنْكُمْ سے مراد یہ ہے کہ تم میں سے ہر وہ شخص جس کا رمضان کے مہینہ کے ساتھ ایک گہرا تعلق قائم کیا گیا ہے۔ جو اس کا منتظر رہتا ہے اور پھر اسے دیکھ لیتا ہے، وہ جو اس کے معارف سے واقف ہے، اس کے فوائد سے آگاہ ہے، وہ جس کے ذمہ اس کی ذمہ داریاں ڈالی گئیں ہیں ، جس کے ذمہ اس کے تقدس کی حفاظت کی گئی ہے، ہر وہ شخص جب رمضان کو پالے فلیصمہ تو پھر وہ روزے رکھے۔ لیکن ایسے اشخاص جن میں یہ تمام