خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 350 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 350

خطبات طاہر جلد ۴ 350 خطبه جمعه ۱۹ اپریل ۱۹۸۵ء نہیں ہو لیکن اس کے باوجود ان کو اجازت دی گئی کہ وہ مسلمان کہلائیں اور ہر فرد بشر کا یہ کہنے کا حق کہ میں مسلمان ہوں ۔ یہ اس طرح عطا فرما دیا گیا کہ دنیا کی کوئی طاقت اب اس حق کو چھین نہیں سکتی کیونکہ اس سے بڑھ کر کسی کا کفر ثابت نہیں ہو سکتا کہ عالم الغیب خدا خبر دے اور وہ خبر اصدق الصادقین کو دے رہا ہو اور اس کے باوجود خود یہ بھی فرما رہا ہو کہ اے رسول! تو بھی ان کو غیر مسلم نہیں کہے گا۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ہوا کہ وہ اعراب ( بادیہ نشین ) جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ان کے دلوں میں ایمان نہیں ہے ان کو حضور اکرم ﷺ نے کبھی غیر مسلم قرار دیا ہو۔ اس کا دوسرا پہلو اور بھی عجیب ہے۔ جب یہ کہا گیا کہ تم اپنے آپ کو مومن نہ کہو تو بظاہر یہ ایسا حکم ہے کہ اس کے بعد اگر وہ اپنے آپ کو مومن کہتے تو آج کل کے علماء کا جو تصور اسلام ہے اس کی رو سے ان کے خلاف جہاد شروع ہو جانا چاہئے تھا۔ ان کا تصور اسلام اگر درست ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس بارہ میں پیش رفت فرماتے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ ایسے لوگوں نے اپنے آپ کو ہمیشہ مومن ہی کہا۔ جن کو کہا جا رہا ہے کہ تم مومن نہیں ہو اپنے آپ کو مومن نہ کہو وہ مومن کہتے چلے گئے اور ایک بھی واقعہ ایسا نہیں کہ اس حکم کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبرا ان کو مومن کہلانے سے محروم کیا ہو۔ یہ ہے عظمت اسلام اور یہ ہے عظمت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ ایسے عظیم الشان دین کا حلیہ بگاڑنے والے بعد میں پیدا ہوئے ۔ انہوں نے اس کا کیا حلیہ بنا دیا یہ قصہ میں آپ کو بعد میں سناؤں گا۔ اس وقت میں حکومت پاکستان کے اس رویہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں ۔ اس پر ہمیں عقلاً اعتراض ہے اور وہ یہ کہ اسلام کے نام پر ہمارے خلاف جو معاندانہ رویہ اختیار کیا گیا ہے اس سے قرآن کریم کی بھی نفی ہوتی ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول اور فعل کی بھی نفی ہوتی ہے کیونکہ اس ظالمانہ رویہ کے مطابق حکومت ہم سے وہ بنیادی حق چھین رہی ہے جس کے متعلق خدائے حکیم و خبیر رسول اکرم سے فرماتا ہے کہ اے رسول ! تم بھی یہ حق کسی سے نہ چھینو لیکن ہم حکومت پاکستان سے یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ تم میں یہ طاقت کہاں سے آگئی ؟ جماعت احمدیہ کے خلاف انتہائی معاندانہ اور ظالمانہ رویہ اختیار کرنے کے لئے جو عذر تراشے گئے ہیں اور اپنے موقف کو معقول بنانے کی جو کوششیں کی گئی ہیں ان میں سے ایک باب کا